52

این ٹی ایس حکام کی غیر ذمہ دارانہ رویہ ، پی ٹی سی ٹیسٹ منسوخ ، ہزاروں امیدوارمایوسی کا شکار ،حکام نوٹس لیں

 

چترال (   نمائندہ آوازچترال) ضلع بھر سے پی ایس ٹی پوسٹوں کی ٹیسٹ میں شرکت کیلئے آنے والے دو ہزار زنانہ امیدواروں اور ان کے ساتھ آنے والوں کیلئے اُس وقت مایوس کن اور انتہائی تکلیف دہ صورت حال پیش آئی جب این ٹی ایس حکام نے 3مارچ کے ٹیسٹ کو منسوخ اور 4مارچ کے ٹیسٹ کو ملتوی کردیا۔ ہزاروں روپے خرچ کرکے انتہائی ناسازگار موسم میں جان ہتھیلی پر رکھ کر ٹیسٹ کیلئے چترال آنے والوں نے اس فیصلے کو سنگین مذاق قرار دیتے ہوئے  حکومت کی ناکامی سے تعبیر کیا ہے ۔فصیلات کے مطابق محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن صوبہ خیبر پختونخوا کے پرائمیری سکول ٹیچرز ( پی ایس ٹی ) کے اسامیوں کیلئے نیشنل ٹیسٹ سنٹر ( این ٹی ایس ) اسلام آباد کے زیر انتظام امتحان دینے والے ہزاروں امیدواروں کو اُس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔ جب این ٹی ایس حکام کی طرف سے ایک موبائل میسچ کے زریعے اطلاع دیدی گئی کہ تین اور چار مارچ کے دن منعقد ہونے والے ٹیسٹ نامعلوم وجوہات کی بنا پر منسوخ اور ملتوی کر دئیے گئے ۔غیر متعلقہ ذرائع کے مطابق 3مارچ کے دن منعقد ہونے والے ٹیسٹ کے پرچے صوبے کے کسی سنٹر میں وقت سے پہلے آوٹ کئے گئے تھے۔ جس کی بنا پر صونے کے ہزاروں امیدواروں کو سزا کا مستحق قرار دیا گیا۔ تاہم این ٹی ایس کے کسی ذمہ داروں سے ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کی وجہ سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ اور اس بات کی تصدیق نہ ہوسکی۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صوبے کے دوسرے اضلاع میں امیدوار اپنے گھر سے نکل کر ٹیسٹ دینے کے بعد دوبارہ گھر پہنچ سکتے ہیں ۔ مگر چترال کے مخصوص جغرافیائی حالات کے پیش نظر ہر ایک امیدوار کو ٹیسٹ دیکر اپنے گھر پہنچامشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ یہاں بارش اور برف باری کے اس موسم میں دو دن کا سفر طے کرکے یارخون لشٹ ، ریچ اور گبور ، آرکاری وغیر سے امیدوار ٹیسٹ سے کم از کم دو دن پہلے چترال پہنچ چکے تھے۔ اور انھیں مجبوراََ کم از کم چار دن ہوٹل میں رہناپڑتا ہے ۔ جبکہ فیمل امیدواروں کے ساتھ ایک مرد اٹینڈینٹ کا بھی آنا مجبور ی ہے۔ لہذا چترال کے دورآفتادہ علاقوں کے امیدواروں کو کم از کم آٹھ سے پندرہ ہزار روپے فی امیدوار خرچ کرنا پڑرہا ہے۔ ان دورآفتادہ علاقوں کے امیدواروں نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے 3مارچ کا ٹیسٹ دیکر دوبارہ گھروں کی طرف روانہ ہوئے تھے کہ راستہ میں انھیں موبائل میسچ کے زریعے یہ اطلاع دیدی گئی کہ ان کے ٹیسٹ منسوخ کردئیے گئے ۔جبکہ دوبارہ ٹیسٹ کا شیڈول بعد میں جاری کیا جائیگا۔ جوکہ انتہائی ناانصافی اور مجرمانہ فعل ہےیہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے ٹیچنگ کیڈر کیلئے پروفیشنل ڈگریوں کوختم کرنے کے بعد ہر ایک گھر سے کئی کئی امیدواروں نے فارم پر کئے تھے۔جس کی بنا پر چترال ضلع کے چند اسامیوں کیلئے ہزاروں امیدوار وں نے پنجہ ازمائی کیلئے میدان میں کود پڑے ہیں۔ اور گزشتہ دو دنوں سے چترال ٹاون کے تمام ہوٹلوں اور گھروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے ۔ خصوصی طور پر ہزاروں خواتین چترال ٹاون پہنچ چکی ہیں۔ ان سب حالات کے باوجود ٹیسٹ منسوخ کرنا امیدواروں کے ساتھ انتہائی زیادتی اور ظلم ہے ۔ مختلف امیدواروں کے والدین نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے این ٹی ایس حکام کی اس غیر ذمہ دارانہ فعل کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے چترال کے امیدواروں کی ذہنی اذیت اور مالی نقصان کے ازالہ کا مطالبہ کیا ہے ۔نانہ امیدواروں نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ اپر چترال اور لوٹکوہ کے دورآفتادہ علاقوں سمیت دور دراز علاقوں سے آنے والوں کو کم از دس ہزار روپے فی کس سفر خرچ دئیے جائیں

Facebook Comments