46

سینٹ کا الیکشن، نتائج سامنے آ گئے، اہم سیاسی جماعت سب سے آگے، بڑے بڑے برج اُلٹ گئے، جن امیدواروں کی جیت کا سب کو یقین تھا ان کے ساتھ ایسا کام ہو گیا کہ کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا، نام سامنے آ گئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینٹ انتخابات 2018 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدواروں نے برتری حاصل کی ہے، سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی 10 نشستیں لے کر سرفہرست ہے اور پنجاب میں ن لیگ کو واضح برتری حاصل کی ہے،اسلام آباد سے جنرل نشست پر مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ اسد جونیجو اور ٹیکنوکریٹ کی سیٹ پر مسلم لیگ (ن) کے مشاہد حسین سید کامیاب ٹھہرے۔وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے والے چار سینیٹر کامیاب ہوگئے۔ فاٹا سے منتخب 11
ارکان اسمبلی نے سینیٹ کے انتخابات کے لیے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں ہدایت اللہ، شمیم آفریدی، ہلال الرحمٰن اور مرزا محمد آفریدی کامیاب پائے گئے۔ پنجاب میں سینٹ کی 11 نشستیں مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدواروں کو حاصل ہوئیں اور ایک تحریک انصاف کے چوہدری سرور کے نام ٹھہری، غیرحتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے پنجاب کی 6 جنرل نشستوں کے علاوہ ایک اقلیتی نشست، دو خواتین کی نشستوں اور ٹیکنوکریٹ کی دونوں نشستوں پر بھی کامیاب حاصل کی ہے۔ پنجاب کی ٹیکنو کریٹ کی دو نشستوں پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور حافظ عبدالکریم کامیاب ہوئے۔ پنجاب میں خواتین کی نشست پر سعدیہ عباسی اور نزہت صادق سینیٹر منتخب ہو گئیں، پنجاب سے ن لیگ کے حمایتی کامران مائیکل اقلیتی نشست پر کامیاب ٹھہرے۔ پنجاب سے کامیاب ہونے والے دیگر امیدواروں میں مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امید وار شاہین بٹ، مصدق ملک، زبیر گل، آصف کرمانی، ہارون اختر اور رانا مقبول شامل ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری رہا، 12میں سے 10 نشستوں پر پیپلزپارٹی نے کامیابی حاصل کی، ایک نشست پر فنکشنل لیگ کے مظفر شاہ اور ایک نشست پر ایم کیو ایم کے فروغ نسیم کامیاب قرار پائے۔ جیت جن کا مقدر ٹھہری ان میں مولابخش چانڈیو، رضا ربانی، مصطفیٰ نوازکھوکھر، امام دین شوقین اور محمدعلی شاہ جاموٹ شامل ہیں۔سندھ سے جنرل نشست پر فنکشنل لیگ کے مظفر شاہ اور ایم کیوایم کے فروغ نسیم ٹیکنیکل پوائنٹس کی بنیاد پر کامیاب قرار دیے گئے۔ پیپلز پارٹی کے انور لال ڈین اقلیتی نشست پرکامیاب ہوئے، خواتین کی نشستیں بھی پیپلز پارٹی کی امیدوار کرشنا کوہلی اور عینی مری نے جیت لیں۔ ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر سکندر میندھرو اور رخسانہ زبیری کامیاب ٹھہرے۔ واضح رہے کہ ابتدا میں فروغ نسیم اور رضا ربانی میں فروغ نسیم کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔بلوچستان کی 11 نشستوں کے غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ جنرل نشست پر آزاد امیدوار صادق سنجرانی، آزاد امیدوار احمد خان، کہدہ بابر، آزاد امیدوار شفیق ترین، حکومتی حمایت یافتہ انوارالحق کاکڑ، جے یو آئی (ف) کے مولوی فیض محمد،نیشنل پارٹی کے محمد اکرم کامیاب ہوئے ہیں، ٹیکنو کریٹس کی نشستوں پر نیشنل پارٹی کے امیدوارمیرطاہر بزنجو، آزاد امیدوار نصیب اللہ بازئی کامیاب ہوئے۔ خواتین نشست پر آزاد امیدوارعابدہ محمدعظیم اور ثنا جمالی کامیاب قرار پائیں۔کے پی کے 11 نشستوں کے غیرحتمی نتائج آ چکے ہیں، خیبرپختونخواہ سے خواتین کی ایک نشست پرپی ٹی آئی کی مہر تاج روغانی، دوسری پر پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد کامیاب رہیں۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر تحریک انصاف کے اعظم سواتی اور ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار دلاور خان کامیاب ہوئے۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر پی ٹی آئی حمایت یافتہ مولانا سمیع الحق کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں صرف 3 ووٹ ملے۔ جنرل نشستوں پر پی ٹی آئی کے فیصل جاوید، محمد ایوب، فدا محمد خان،جے یوآئی ف کے طلحہٰ محمود، ن لیگ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار پیر صابرشاہ، جماعت اسلامی کے امیدوارمشاق اور پیپلزپارٹی کے بحرمند تنگی کامیاب ہوئے۔واضح رہے کہ پنجاب کی 12 نشستوں پر 20 امیدوار، سندھ کی 12 نشستوں پر 33 امیدوار، خیبرپختونخوا کی 11 نشستوں پر 26 امیدوار، بلوچستان کی 11 نشستوں پر 25 امیدوار، فاٹا کی4 نشستوں پر 25 امیدوار اور وفاق سے 2 نشستوں پر 5 امیدوارحصہ لیا۔اب تک کے نتائج مطابق ن لیگ کے حمایت یافتہ 17 امیدوار، پیپلز پارٹی کے 12 اور تحریک انصاف کے چھ امیدوار کامیاب ہوئے ہیں
Facebook Comments