56

سی ڈی ایل ڈی کے تمام منصوبے محکمہ بلدیات کے تحت مکمل کیے جائیں گے ۔ سی ڈی ایل ڈی کا بنیادی مقصد کمیونٹی کو براہ راست فائدہ پہنچانا ، ترقیاتی منصوبوں کو کمیونٹی کے مشورے سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔عنایت اللہ خان پش

اور( آوازچترال نیوز )سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی خیبر پختونخوا وپارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان سی ڈی ایل ڈی کے تحت ملاکنڈ ڈویژن کے چھ اضلاع میںیورپی یونین کے تعاون سے 64ملین یورو لاگت سے چار ہزار چھوٹے بڑے منصوبے منظور ہوچکے ہیں جس میں 17 سو سیکمیں مکمل کیے جاچکے ہیں اور سی ڈی ایل ڈی کو مزید تین اضلاع میں توسیع دی گئی ہے ۔صوبائی حکومت اس کے لیے چھ ارب روپے فراہم کرے گی ۔ سی ڈی ایل ڈی کے اسکیمیں ضلعی ترقی کے جانب ایک اہم قدم ہے ۔ تمام اسکیمیں کمیونٹی کے تعاون سے مکمل کیے جائیں گے ۔ ہم نے ایسے منصوبے ترتیب دیے اور ایسے پرجیکٹ شروع کیے ہیں جس کی مثالیں ملک کے اندر اور بیرون ملک دی جا رہی ہے۔ یہاں پر سڑکوں ، پلوں اور تعلیمی اداروں جال بچھایا جا رہا ہے۔سی ڈی ایل ڈی کے سکیموں سے نچلی سطح پر انقلابی تبدیلی آئے گی ۔ وہ مقامی ہوٹل میں سی ڈی ایل ڈی پروگرام کے زیر اہتما م مزید اضلاع میں سی ڈی ایل ڈی کے توسیع کے موقع پر سیمنیار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر سیکرٹری بلدیات سید جمال الدین ، ڈی جی لوکل گورنمنٹ عامر لطیف ، یورپی یونین سفیر گیلان فرام ، سی ڈی ایل ڈی ایگزیکٹیو برن ہارڈ ھولا ، سی ڈی ایل ڈی کوارڈینٹر سید رحمان ، ضلعی ناظمین ، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔ سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سی ڈی ایل ڈی کے تحت ملاکنڈ ڈویژن کے چھ اضلاع میں اربوں روپے کے پراجیکٹس مکمل کیے جاچکے ہیں جس سے یہاں کے عوام کے زندگی میں خوشنما تبدیلی آئی ہے اور اب سی ڈی ایل ڈی کومزید تین اضلاع میں توسیع دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی بہتر طرز حکمرانی کی بدولت نظام میں بہتری آئی ہے اور لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونے شروع ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سی ڈی ایل ڈی کے تمام منصوبے محکمہ بلدیات کے تحت مکمل کیے جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ سی ڈی ایل ڈی کا بنیادی مقصد کمیونٹی کو براہ راست فائدہ پہنچانا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کو کمیونٹی کے مشورے سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اس پروگرام کے تحت مخصوص علاقوں کے بجائے تمام علاقوں میں یکساں منصوبے بنائیں گے ۔

Facebook Comments