81

خیبرپختونخواحکومت کاصوبے کی پن بجلی نیشنل گرڈ میں شامل نہ کرنے پر اظہارتشویش۔ سیکرٹری توانائی

پشاور (    آوازچترال رپورٹ ) خیبرپختونخواحکومت نے صوبے میں 56میگاواٹ کے تین پاورپراجیکٹ سے پید اہونے والی سستی ترین پن بجلی کی نیشنل گرڈ میں عدم دستیابی پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اسے وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ ناانصافی قراردیا ہے اورمذکورہ مسئلے کے حل کے لئے اعلیٰ سطحی فورم پرمعاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبے کے اپنے وسائل سے تعمیر کئے گئے سب سے بڑے پن بجلی گھر81میگاواٹ ملاکنڈ تھری پاورکمپلیکس سے پید اہونے والی بجلی کے نظام پر اطمینان کا اظہارکیا گیاہے اورامید ظاہر کی گئی ہے کہ جلد دیگربجلی گھروں سے پیداہونے والی بجلی کو نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک کردیا جائیگا۔ اس سلسلے میں سیکرٹری توانائی انجینئرنعیم خان نے ملاکنڈتھری پاورکمپلیکس کا دورہ کیا اورپاورہاؤس کے مختلف حصوں سپل وے،پاورچینل اورپیداواری یونٹ کادورہ کیا۔انہوں نے بجلی گھر کے سٹیک ہولڈرز،O&Mٹھیکہ دار،ریزیڈنٹ انجینئر اوربجلی گھرکے کارکنوں کے مسائل دریافت کرنے کے سلسلے میں ان کے ساتھ خصوصی میٹنگ کی۔ سیکرٹری توانائی نے بجلی گھر کے ٹھیکہ دار کو ملازمین کے جائز مسائل فوری طورپر حل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ بعدازاں پراجیکٹ ڈائریکٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری توانائی انجینئرنعیم خان نے کہا کہ 36.6میگا واٹ درال خوڑ پاور پراجیکٹ، 17میگا واٹ رانو لیاہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور2.4میگاواٹ مچئی پاورپراجیکٹ سے مجموعی طورپر 56میگاواٹ بجلی کی پیداوارشروع ہوچکی ہے مگرپیسکو کے ساتھ بجلی کی خریداری کے معاہدے نہ ہونے اورنیشنل گرڈ سے منسلک نہ کرنے کے مسائل درپیش ہیں جس کے حل کے لئے جلد اعلیٰ سطحی فورم پر معاملہ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے بتایاکہ بجلی کی نعمت سے محروم پسماندہ علاقوں میں356منی مائیکرو پاور سٹیشن بھی تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں جن سے35میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ان میں سے متعدد منی مائیکروپاورسٹیشن مکمل کرلئے گئے ہیں اور جلد ہی ان چھوٹے بجلی گھروں کو کمیونٹی کے حوالے کر دیا جائے گا۔اجلاس میں سیکرٹری توانائی نے توانائی کے جاری منصوبوں کے پراجیکٹ ڈائریکٹرز،ٹھیکیداروں اور کنسلٹنٹ کو سختی سے ریکوری پلان پر عملدرآمدکی ہدایات جاری کرتے ہوئے تمام منصوبوں کو معیاری اور بروقت مکمل کرنے پرزوردیااورانہیں خبردارکیا کہ منصوبوں کی تکمیل میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا بلاوجہ تاخیر کرنے والے ٹھیکیداروں اور کنسلٹنٹ پرجرمانہ عائد کیا جائے گا۔انہوں نے بتایاکہ توانائی منصوبوں کے ریکوری پلان کو پیڈوبورڈ کے آئندہ اجلاس میں بھی زیربحث لایا جائے گا۔
Facebook Comments