133

ایک رات بھٹونے مجھ سے کہا ’’ آئیے جرنیل صاحب آپ بھی اقتدار میں شامل ہو جائیں۔ زیادہ تر اختیارات آپ ہی کے ہاتھ میں ہوں گے۔ بس ایک بار اپوزیشن کو چھٹی کا دودھ یا دآجائے‘‘جنرل ضیا الحق کے وہ تاریخی انکشافات جس کے بعد مارشل لا لگانے کافیصلہ کرلیا گیاتھا

لاہور(ایس چودھری)جنرل ضیا الحق کے مارشل لا پر کڑی تنقیدی کی جاتی ہے کہ انہوں نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر غاصبانہ قبضہ جمایا تھا ،لیکن دوسری جانب ایسی گواہیاں بھی موجود ہیں جو اس بات کے ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ ضیا مارشل لا بھٹو صاحب کی مرضی کے مطابق لگایا گیا تھا۔کوئی چیز اچانک نہیں ہوئی ،بھٹو خود انہیں مارشل لگانے اور اپوزیشن کو سختی سے دبانے کی دعوت دیتے تھے۔ممتاز بزرگ صحافی الطاف حسن قریشی صاحب نے جنرل ضیا الحق کی زندگی میں ہی ان کا ایک یادگار انٹرویو کیا تھا جو بعد ازاں اردو ڈائجسٹ میں شائع ہوا تھا جس میں جنرل ضیا الحق نے خود اس مارشل لا کی وجوہات بیان کیں اور جس وقت مارشل لا لگایا اسکی کیفیات کا بھی اظہار کیا تھا ۔جنرل ضیا الحق نے اس بارے کہا تھا کہ ’’جون کے آخری دنوں میں مسٹر بھٹو نے فوجی جرنیلوں کو کابینہ کے اجلاس میں بلانا شروع کر دیا۔ بعض مواقع پر عجیب و غریب باتیں سامنے آتیں۔ ایک رات مسٹر کھر اور مسٹر پیرزادہ نے کہا ’’اپوزیشن شرارت سے باز نہیں آتی۔ اس لے لیڈر فتنے اْٹھا رہے ہیں۔ ہم ان سب کو قتل کر دیں گے‘‘ ٹکا خاں کے لب و لہجے میں اور بھی تیزی تھی۔ ان کا ارشاد تھا ’’ دس بیس ہزار افراد پاکستان کی خاطر قتل بھی کر دینے پڑیں تو کوئی بْری بات نہیں ‘‘ مسٹر بھٹو بار بار کہتے’’ جنرل صاحب ! دیکھا آپ نے میری کابینہ کا موڈ۔ میں ان حالات میں اپنے وزیروں کا ساتھ دینے کے سوا اور کیا کر سکتا ہوں‘

ایک رات کا بینہ کی پھر میٹنگ ہوئی۔ بھٹو صاحب خاصے پریشان نظر آتے تھے۔ دل کی بھڑاس نکالنے کے بعد بولے ’’ آئیے جرنیل صاحب آپ بھی اقتدار میں شامل ہو جائیں۔ زیادہ تر اختیارات آپ ہی کے ہاتھ میں ہوں گے۔ بس ایک بار اپوزیشن کو چھٹی کا دودھ یا دآجائے‘‘ اس نوع کی باتیں اب ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی تھیں۔پہلی جولائی کو یہی تماشارات کے ڈیڑھ بجے تک ہوتا رہا۔ دوسری جولائی کو بھی اس ڈرامے کی ریہرسل کی گئی۔ تین جولائی کی رات کو میرے اعصاب نے حقیقی خطرہ بھانپ لیا‘ چنانچہ میں بڑے اقدام کا جائزہ لینے لگا۔ حکومت کی ذہنی کیفیت میرے سامنے تھی۔ اب صرف اپوزیشن کے نقطہ کا انتظار تھا۔

Facebook Comments