50

زرداری اور طاہر القادری کا گٹھ جوڑ: ………. تحریرعنایت اللہ اسیر

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کبھی دریا میں سمندر نہیں گرتا
پی پی پی کے طاہرالقادری کے ساتھ ملنا کچھ ایسا ہی ہے جس سے طاہرالقادری کی قوت اور ووٹ بنک میں اضافہ ہوسکتا ہے مگر بغض علی میں پی پی پی کا لاہور ہائی کورٹ سے بدنیتی کا سرٹیفیکیٹ لینے والے فرد سے ملنا پی پی پی کو نقصان اور ملک میں سیاسی انتشار کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ بالکل اسی طرح پی ٹی آئی کے ابھرتے ہوئے جمہوری قوت کو نون لیگ کو ٹف ٹائم دیتے ہوئے ایک واضح جمہوری قوت کے طور پر اور مضبوط حزب اختلاف کے طور پر عوام الناس میں نمایان پوزیشن حاصل کیا ہے ۔ پی پی پی کے ووٹ بنک کو توڑ کر پی ٹی آئی کومضبوط کیا ہے خان صاحب کا زرداری جس پر کرپشن کے الزامات لگا کر پی ٹی آئی ابھر گئی ہے انکے ساتھ خان صاحب کا صرف نواز مخالفت میں بیٹھنا پی ٹی آئی کے ورکروں کو مایوس کرکے پی پی پی کو دوبارہ مضبوط کرنے کا سبب ہوگا۔ پی ٹی آئی ایک سمندر اور سونامی کے طور پر حقیقی طور پر جمہوری قوت بن گئی ہے لہٰذا عوام الناس 2018ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی کو پی پی پی اور مسلم لیگ نون کی جگہ متبادل کے طور پر اپنا چکی ہے۔ محض الیکشن سے پانچ ماہ پہلے منفی اتحاد کا حصہ بن کر پی ٹی آئی اپنے بیس سالہ بنائے ہوئے مقام کو کھودے گا۔
لہٰذا پی ٹی آئی کو اب صرف اور صرف اپنے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے 62اور 63پر پورا اترنے والے امیدواروں کے انتخاب پر رات دن کام کرنا ہوگا اور ایک مضبوط آرگنائزنگ کمیٹی بناکر سب سے پہلے پنجاب میں پھر سندھ میں بلوچستان اور سرحد میں 400حلقوں میں مضبوط امیدواروں کے انتخاب کا کام ہی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ورنہ پھر 2018ء سے 2013ء تک دھرنوں کے لئے تیاری کیا جائے جو پی ٹی آئی کا اور پاکستان کے لئے کسی طرح فائدہ مند نہیں ہوگا۔

Facebook Comments