53

پیڈو اگرواپڈا کے گولین گول بجلی گھر سے بجلی خرید کر اپر چترال کو دینے کی بجائے ان کے ساتھ چال چلنے یا غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو گزشتہ تین سالوں میں اندھیروں میں رہنے والے عوام کے غیض وغضب سے بچنا محال ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی ضلع

چترال (نمائندہ آواز) امیر جماعت اسلامی ضلع چترال مولانا جمشید احمد اور نائب امیر ضلع اور موڑکھو سے رکن ضلع کونسل مولانا جاوید حسین نے صوبائی حکومت کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر واپڈا کے گولین گول بجلی گھر سے بجلی خرید کر اپر چترال کو دینے کی بجائے ان کے ساتھ چال چلنے یا غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا تو گزشتہ تین سالوں میں اندھیروں میں رہنے والے عوام کے غیض وغضب سے بچنا محال ہوگا اور امن وامان کی سنگین مسئلہ اٹھ کھڑا ہوگا ۔ بدھ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اپر چترال کے لئے ضلعے کی حیثیت کا اعلان کرنے سے پہلے اس کی بجلی کا مسئلہ کرنا چاہئے تھا جہاں 21ہزار بجلی کے صارفین 2015ء میں ریشن میں پیڈو کے بجلی گھر کی سیلاب بردگی کے بعد سے بجلی کی آمد کا ا نتظار کررہے ہیں لیکن صوبائی حکومت نے اب تک نہ تو بجلی گھر کی بحالی کا کام شروع کردیا ہے اور نہ ہی حال ہی میں مکمل ہونے والی گولین گول بجلی گھر سے اضافی بجلی خریدکر ان صارفین کو دینے میں مخلص اور سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے عوامی دباؤ اور احتجاج پر سولر سسٹم کی فراہمی کے ذریعے 5فیصد صارفین اور ڈیزل جنریٹروں کے ذریعے 10فیصد صارفین کو بجلی کی فراہمی کی ناکام کوشش کی ہے لیکن ریشن بجلی گھر کی بحالی یا واپڈا کی گولین گول بجلی گھر سے بجلی کی خریداری کے سوا اور کوئی چار ہ کار نہیں لیکن صوبائی حکومت کسی تیکنیکی نقص کی بنا پر نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپر چترال کے عوام کو بجلی سے محروم کرنے کا تماشا رچائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب صوبائی حکومت اپر چترال کے عوام کو ٹرخانے کے لئے گولین میں ایس آر ایس پی کی دو میگاواٹ بجلی گھر سے بجلی دینے کا جھانسہ دے رہی ہے لیکن اس بجلی گھر کی جو حالت ہے وہ سب کے سامنے ہے جس سے چترال ٹاؤن کے ڈھائی ہزار صارفین کو بجلی دینے کے لئے بھی کافی نہیں ہے اور یہ عوام کے ساتھ ایک اور مذاق ہوگا۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہاکہ اپر چترال کو ضلع کا درجہ دینے سے پہلے اس کی بجلی کا مسئلہ حل کیا جانا چاہئے تھا کیونکہ بجلی کے بغیر کوئی انتظامی یونٹ نہیں چل سکتی ۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تین سال سے اندھیرے میں رہنے والے اپر چترال کو ہر صورت گولین گول بجلی گھر سے بجلی فراہم کی جائے بصورت دیگر اپر چترال کے عوام اپنا حق حاصل کرنے کے لئے احتجاج کے تمام ممکنہ صورتیں اختیارکرتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور اب بھی ان کو ٹرخانے کی کوشش کی گئی تو غصے سے بپھرے ہوئے عوام کو سنھبالنا مشکل ہوجائے گااور یقینی ظور پر امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوگا۔

Facebook Comments