59

چترال دو اضلاع میں تقسیم ہو چکا ہے اور چار تحصیلیں بن چکی ہیں ۔ اس لئے آبادی کو پیش نظر رکھ کر سیٹوں کی تقسیم چترالی عوام سے بڑی زیادتی ہے ۔ جے یو آئی

چترال ( نمائندہ آواز ) جمیعت العلماء اسلام چترال نے چترال کی صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ کے خاتمے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے پُر زور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ اس سیٹ کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے ۔ گذشتہ روز جمیعت العلماء اسلام چترال کے امیر قاری عبدالرحمن قریشی کے زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا ۔ جس میں ضلعی جنرل سیکرٹری مولا نا عبدالشکور ، قاری وزیر احمد ، مفتی شفیق احمد ، (ر) صوبیدار میجر عبدالصمد و دیگر نے شرکت کی ۔اجلاس میں چترال کی موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیا گیا ۔ اور اس امر کا اظہار کیا گیا ۔ کہ چترال دو اضلاع میں تقسیم ہو چکا ہے اور چار تحصیلیں بن چکی ہیں ۔ اس لئے آبادی کو پیش نظر رکھ کر سیٹوں کی تقسیم چترالی عوام سے بڑی زیادتی ہے ۔ پاکستان میں کہیں بھی دو اضلاع کیلئے ایک صوبائی سیٹ نہیں ہے ۔ لہذا چترالی عوام کے ساتھ یہ انتہائی زیادتی ہو گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم اس فیصلے کو چترال کو پتھر کے زمانے میں لے جانے کی سازش سمجھتے ہیں ۔ اس لئے الیکشن کمیشن اور تمام قومی پارٹیز چترال کو استثنی دے کر دو صوبائی سیٹوں کو بحال رکھیں ۔ جے یو آئی اس حوالے سے عنقریب لائحہ عمل کا اعلان کرے گی ۔

Facebook Comments