59

چترال کے معروف صحافی اور ادیب و شاعر تاج محمد فگار مرحوم کی یاد میں چترال پریس کلب کی طرف سے تعزیتی ریفرنس

چترال ( نمائندہ آوازچترال ) چترال کے معروف صحافی اور ادیب و شاعر تاج محمد فگار مرحوم کی یاد میں چترال پریس کلب کی طرف سے ایک تعزیتی ریفرنس ہفتے کے روز پریس کلب ہال میں منعقد ہوا ۔Image may contain: 6 people, people sitting جس میں ایم پی اے چترال سید سردار حسین مہمان خصوصی اور مایہ ناز ادیب محمد عرفان عرفان صدر محفل تھے ۔ جبکہ پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج آف منیجمنٹ سائنسز صاحب الدین ، ڈاکٹر رحمت آمان اور مرحوم کے فرزند فہد احمد اعزازی مہمانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں چترال کے علماء ، دانشور وں اور صاحب علم و بصیرت نے شرکت کی ۔ چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین ، ممتاز دانشور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ، خطیب شاہی جامع مسجد مولانا خلیق الزمان ،سابق ڈائریکٹر انفارمیشن محمد یوسف شہزاد ، محکم الدین ، شاہ مراد بیگ نے مرحوم کی صحافتی ، ادبی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی انہوں نے کہا ۔ کہ تاج محمد فگار ایک نڈر ، بے باک ، حقیت پسند صحافی تھے ۔ انہوں نے قومی مسائل کو ہمیشہ اولیت دی ۔ اور مسائل کو قلم کے ذریعے اُجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مرحوم بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے ۔ اور ایک اچھے صحافی و قلمکار تھے ۔ عوامی مسائل کی نشاندہی کرنے میں منفرد صلاحیت رکھتے تھے ۔ اور بعض اوقات نہایت ذمہ دار حکومتی افراد کے سامنے بلا جھجک اُن کی کوتاہیوں کا تذکرہ کرتے ۔ اور عوامی کاموں میں مصلحت پسندی اُسے بالکل قبول نہیں تھی ۔ اس کے باوجود وہ ایک درویش صفت انسان تھے ۔ مہمان نوازی ، خدمت ، سخاوت اُن میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ ساتھیوں کی اتنی عزت کرتے کہ شرمندہ ہونا پڑتا ۔ سخاوت کوئی اُن سے سیکھے ۔ Image may contain: 3 people, people sitting and beardغریب و نادار لوگوں کی مفلسی اُن سے نہیں دیکھی جاتی ۔ اور کسی بھی فقیر ، ضرورت مند کو وہ خالی ہاتھ نہ لوٹاتے ۔ اور وسیع دسترخوان کے مالک تھے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ تاج محمد فگار مرحوم کی ادبی خدمات چترال کی ادبی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ ادب دروش میں شہزادہ حسام الملک کے ہاں پیدا ہوئی ۔ اور تاج محمد فگار کے دولت خانے میں جوان ہوئی ۔ تعزیتی ریفرنس سے مہمان خصوصی ایم پی اے سید سردار حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ صحافی اور ادیب جو کچھ زیر قرطاس لاتے ہیں ۔ یہی اُن کی اصل میراث ہے ،اور ان ہی سے پہچانے جاتے ہیں ۔ جائداد اور محلوں کی کوئی حیثیت نہیں ۔ کیونکہ دنیا سے رحلت کے بعد یہ چیزین کسی اور کی بن جاتی ہیں ۔ جبکہ تحریر ایک ایسی چیز ہے ۔ جس سے لوگ رہتی دنیا تک فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔ اور لکھنے والے کے نام کو زندہ رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ تاج محمد فگار جیسے صحافی اور ادیب چترال کیلئے سرمائے کی حیثیت رکھتے تھے ۔ انہوں نے کھوار ادب کے ممتاز محقق گل نواز خاکی کے ساتھ مل کر ادب کی آبیاری کیلئے بھی بڑا کام کیا ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ۔ کہ چترال میں تعلیمی ترقی ہو رہی ہے ۔ لیکن ادب تنزل کی طرف جا رہا ہے ۔ جبکہ جس معاشرے میں تعلیم کو فروغ مل رہا ہو ۔ وہاں ادب بھی ترقی کر جاتی ہے ۔ لیکن چترال میں حالات بالکل اُلٹ سمت کی طرف جارہے ہیں ۔ نوجوانوں سے چترال کا ماحول جس ادب کا متقاضی ہے ۔ اُسے اُنہیں اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ تاج محمد فگار مرحوم کے فرزند ارجمند فہد احمد نے خطاب کرتے ہوئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا ۔ کہ اُنہیں اس بات پر فخر ہے ۔ کہ اُن کے والد کی خدمات کا اعتراف کیا جارہاہے ۔ اور اُس کے اتنے سارے دوستوں اور عزیزوں کی محبتیں اُنہیں حاصل ہیں ۔ صدر محفل محمد عرفان عرفان نے تاج محمد فگار مرھوم کی یاد میں شاندار تعزیتی ریفرنس منعقد کرنے پر صدر پریس کلب اور ممبران کا شکریہ ادا کیا ۔ ریفرنس کے اختتام پر مرحوم تاج محمد فگار کے ایصال ثواب کیلئے دُعا کی گئی ۔ اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا ۔Image may contain: 7 people, people sitting, suit and indoor

Facebook Comments