67

یاست میں عدالت،عدالت میں سیاست

  • نجم ولی خان
  • میں بہت عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ عدالت میں سیاست نہیں ہونی چاہئے اور سیاست میں عدالت نہیں ہونی چاہئے مگر بدقسمتی سے ہم نے کسی جگہ کوئی لکیر نہیں کھینچی بلکہ لکیر کیا کھینچنی تھی ہم غیر متعلقہ لوگوں کو غیر متعلقہ معاملات میں گھسیٹ گھسیٹ کے لاتے رہے ، عشروں سے بنی لکیریں مٹائی جاتی رہیں اور حال یہ ہوا کہ جرنیل، جج اور جرنلسٹ سب سیاسی معاملات کا حصہ بن گئے۔ عمران خان گھسیٹ گھساٹ کے نواز شریف کو عدالت میں لے کر گئے تھے حالانکہ وہ ان کے سیاسی مخالف ہیں اور مقابلہ سیاسی میدان میں ہی ہونا چاہئے تھا مگر شائد انہیں اندازہ ہے کہ وہ نواز شریف اور ان کی مسلم لیگ کا سیاسی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ اس جماعت نے چار، ساڑھے برس کے اندر ان دو اہم ترین مسائل پر قابوپا لیا ہے جن کے بارے میں سمجھا جا رہا تھا کہ ان سے شائد ہماری آنے والی نسلیں بھی جا ن نہ چھڑوا سکیں گی ،وفاق کی سطح پر موٹر ویز بن رہی ہیں تو دوسری طرف پنجاب ہے جہاں میٹرو بس کے بعد اب اورنج لائن بھی چلنے والی ہے۔ایک وقت تھا کہ عدالتی معاملات کی صرف رپورٹنگ ہوا کرتی تھی،ان معاملات پر تبصروں کی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی مگر گذشتہ دس برسوں کے دوران ہم نے عدالتوں کے باہر عدالتیں لگتی ہوئی دیکھی ہیں او روہ تمام معاملات جو عدالتوں کے اندر ثابت نہیں کئے جاتے ان پر میڈیائی عدالتوں میں بوگس دلائل کے انبار لگا کر داد سمیٹی جاتی ہے۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے دور سے انصاف کو میڈیا کی ہیڈ لائنز اور اخبارات کی شہ سرخیوں کا یرغمال بنایا گیا ہے تب سے معاملہ بہت زیادہ خراب ہو گیا ہے۔ عدالت میں زیر سماعت معاملات پر غیر عدالتی عناصر کی طرف سے سچ تک پہنچنا کوئی ضروری نہیں مگر اب ہر طرف سے اتنا غبار اڑایا جاتا ہے کہ شاید عدالت کے لئے بھی سچ کو تلاش اور شناخت کرنا بہت زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔ مجھے بہت زیادہ خوشی ہے کہ آج جسٹس مشیر عالم، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے خلاف نیب کے قائم کردہ حدیبیہ کیس کو ٹی وی کے لائیو پروگراموں میں زیر بحث لانے پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم عدالت میں سماعت کی رپورٹنگ ضرور ہو سکتی ہے۔ یہ وہ مطالبہ ہے جو پاکستان کے سنجیدہ صحافتی طبقات طویل عرصے سے کرتے چلے آ رہے ہیں کہ اینکروں ا ور تجزیہ کارو ں کی غیر سنجیدہ اور ناتجربہ کار فوج ظفر موج نے ایک تباہی مچا رکھی ہے۔ معاشرے میں اثرپذیری اور شہرت کی بے قابولہر میں بہت سارے ایسے بھی بہہ گئے ہیں جنہیں صحافتی میدان میں عشروں کا تجربہ حاصل ہے مگر وہ بھی ایسی ایسی لمبی چھوڑتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔

ہمیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بنچ کی ڈائریکشن کو اس کے وسیع تر مفہوم میں سمجھنا اور مقاصد کی خاطر اپنانا ہو گا ورنہ محض ایک مقدمے میں پابندی لگنے سے تمام مثبت نتائج حاصل نہیں کئے جاسکیں گے اور یہاں عدالت سے زیادہ خود صحافیوں کی تنظیمیں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتی ہیں۔ صحافی یقینی طور پر وکیل اور جج نہیں ہوتے لہٰذا ان پر کوئی لازم نہیں کہ وہ سماعت کے بعد عدالتوں کے باہر یا اپنے سٹوڈیوز میں بیٹھ کے دلائل دیتے، تبصرے کرتے اورفیصلے سناتے پھریں او راسی طرح ہر سماعت کے بعد فریقین پر بھی پابندی ہونی چاہئے کہ وہ اپنے حق میں الیکٹرانک اور پرنٹ ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پروپیگنڈہ نہ کر سکیں۔ مجھے میڈیا کے عزت اوروقار کے بارے کچھ نہیں کہنا کہ اس بارے سب جانتے ہیں مگر میرے خیال میں اس سے عدالتوں کی عزت اور وقار مجروح ہوتا ہے۔عدالت اور صحافت ( چاہے وہ الیکٹرانک میڈیا کی ہویا پرنٹ میڈیا کی) میں ایک لکیر ضرور ہونی چاہئے۔ معزز جج صاحبان کو آبزرویشنز اور فیصلے دیتے ہوئے میڈیا اور سماج کی بجائے قانون اور پریکٹس کو سامنے رکھنا چاہئے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہماری عدالتوں کے فیصلے دنیا بھر کی عدالتوں میں سراہے جائیں کجا یہ کہ بین الاقوامی سطح تو دور رہی، خود ہماری ماتحت عدالتوں میں ہماری اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے نظیر نہ بن سکیں۔ سیاست اختلاف رائے کا نام ہے، میں نہ مانوں کی اس سے بہترین مثال کوئی نہیں ہو سکتی اور جب عدالت سیاسی معاملات میں فریق بنتی ہے تو عدالت اور سیاست میں روا رکھے جانے والے سلوک میں فرق نہیں رہ جاتا۔

جوڈیشل مارشل لا کی بات سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کی تھی اوریہ بھی چیلنج دیا تھا کہ انہیں عدالت میں طلب کر لیا جائے، وہ اپنے بیان کی وضاحت وہاں خود کر دیں گے اور اگر ان کی بات غلط ثابت ہوئی تووہ ہرسزا بھگتنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ پاکستان کی اصل سیاست مقننہ کی بجائے عدالتوں میں ہو رہی ہے۔ میں انہی تحریروں میں حکمران جماعت کی اس غلطی کی نشاندہی کر چکا ہوں جس کے تحت وہ نہ صرف خود سیاسی الزامات کو عدالتوں میں لے جاتی رہی بلکہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی دعوت دیتی رہیں۔ ایسی ہی ایک دعوت کے نتیجے میں میاں نواز شریف ایک مرتبہ پھر نااہلی کی سزا بھگت رہے اور جلسوں میں سوال پوچھتے پھر رہے ہیں کہ انہیں کیوں نکالا۔دلچسپ امر تو یہ ہے کہ سیاست کا مقابلہ عدالت کی بیساکھیوں سے کرنے والے عمران خان بھی اس وقت پریشان ہیں۔ پیپلزپارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں آنے والے بابر اعوان کو اس وقت شدید خفت کا سامنا کرنا پڑا جب عمران خان کو باامر مجبوری انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایک سے زائد مرتبہ پیش ہونا پڑا تو وہ لوگوں اور کیمروں کی پرواہ کئے بغیر بابر اعوان پربرہم ہوئے۔ عمران خان کو پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے سمیت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بار بار پیشی کے علاوہ تھانے میں بھی حاضری دینی پڑی۔ بابراعوان نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عمران خان دھرنے کے ذریعے سیاسی احتجاج کر رہے تھے جسے دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا مگر سرکاری وکیل کی طرف سے واضح کر دیاگیا کہ انسداد دہشت گردی کی دس دفعات کا اطلاق عمران خان پر ہوتا ہے جس کے بعدان مقدمات سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے اور مقدمات معمول کے مطابق سیشن جج کی عدالت میں چلانے کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ عمران خان کے خلاف حنیف عباسی کا وہ مقدمہ الگ ہے جس میں بنی گالہ کی رہائش گاہ کی خریداری کامعاملہ انتہائی مشکوک ہونے پر ان کی نااہلی کا سوال اٹھایا گیا ہے اور اس پر فیصلہ محفوظ ہے۔

قابل ذکر سیاسی جماعتوں میں پیپلزپارٹی واحد ہے جومعاملات کو عدالتو ں میں لے جانے کی حمایت نہیں کرتی اور اس کے مقابلے میں پارلیمنٹ کو اہمیت دیتی ہے مگر اس کے باوجود مختلف مقدمات کے دوران پیپلزپارٹی کے بہت سارے رہنما ہائی کورٹ میں عدالتوں کے باہرلگی میڈیائی عدالتوں میں پہنچتے رہے ۔ وہ سمجھتے رہے کہ سیاست کی بجائے عدالت سے مخالفین کو ناک آوٹ کروانے والے سارا کریڈٹ خود لے جائیں گے اور انہیں اینٹی نواز شریف ووٹ سے کچھ شئیر نہیں ملے گا ۔مجھے کہنے دیجئے کہ جو تانگہ پارٹیاں اپنے مخالفین کاسیاست کے میدان میں مقابلہ نہیں کر پاتیں وہی یہ ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں، جیسے سراج الحق کی جماعت اسلامی ہو یاشیخ رشید احمد کی عوامی مسلم لیگ، یہ کسی بھی جگہ کسی بڑی عوامی سیاسی جماعت کے لئے خطرہ ثابت نہیں ہوسکتیں۔ ان کی سیاست اسی وقت مزے دار ہوتی ہے جب یہ کسی دوسرے کی ہانڈی کو تڑکا لگاتی ہیں ورنہ ان کی اپنی ہانڈیوں میں محض پانی بھرا ہے، اسے جتنا ابالتے ہیں وہ دھواں بن کے اڑتا جاتا ہے۔

تما م کھلاڑیوں سے درخواست یہی ہے کہ وہ اپنے اپنے میدان میں کھیلیں، کرکٹ کے کھلاڑی جب بیٹ گھماتے اور وکٹیں لہراتے ہوئے فٹ بال کے گراونڈمیں جا گھستے ہیں تو سرپھاڑنے یا پھڑوانے اورٹانگیں توڑنے یا تڑوانے کے سوا کچھ دوجا نہیں کر پاتے کہ انہیں کیا علم کہ فٹ بال میں ڈنڈا استعمال نہیں ہوتا۔ یہ درخواست محض خان صاحب سے نہیں، یہ ان تمام سیاستدانوں کے لئے ہے جو عدالت میں جا کے سیاست کرنا چاہتے ہیں،ا ن ریٹائرڈ جرنیلوں کے لئے ہے جو ٹی وی سکرینوں پر تجزیہ کار بن کے بیٹھ جاتے ہیں، ان صحافیوں کے لئے ہے جو تھانے داری ہی نہیں بلکہ ججی بھی کرتے ہیں۔

Facebook Comments