88

سانحہ ماڈل ٹا ؤ ن انکوائری رپورٹ ،رانا ثناء اللہ نے اعتراضات کے ڈھیر لگادیئے،حکومت کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

لاہور (آئی این پی ) صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے وزیرِ اعلی پنجاب کی ہدایت پر سانحہ ماڈل ٹاون کی تحقیقاتی رپورٹ پبلک کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہا ہے کہ انکوائری رپورٹ نقائص سے بھرپور ہے اور اس میں کسی حکومتی شخصیت کا نام نہیں ہے،رپورٹ میں جن شہادتوں پر انحصار کیا گیا ہے وہ غیر متعلقہ ہے،رپورٹ میں کسی حکومتی شخص کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا،رپورٹ میں ایک لفظ نہیں جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہو،قانون کی نظر میں جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ غیر موثر ہے ،رپورٹ میں ثبوت یک طرفہ ہیں، رپورٹ شہادت کے طور پر نہیں پیش کی جا سکتی، مجھ پر ایک میٹنگ کرنے کا الزام جس میں بیریر ہٹانے کا حکم شامل تھا۔منگل کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالت نے حکومت کو 30روز میں رپورٹ شائع کرنے کا کہا، تین سال سے رپورٹ کے بارے میں پروپیگنڈا کیا جاتا رہا، پنجاب حکومت میرٹ اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے، رپورٹ میں حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، شیخ رشید نے ماڈل ٹاؤن رپورٹ سے متعلق طوفان برپا کیا رکھا، رپورٹ میں ذکر ہے کہ عوامی تحریک کے کارکنوں نے مزاحمت کی، پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو کس نے اکٹھا کیا تھا؟ ان کے کارکنوں کو کون اکساتا رہا؟ قانون کی نظر میں رپورٹ میں خامی ہے، وہ کون تھا جو کہتا رہا کہ شہادت کا وقت آگیا ہے باہر نکلیں؟ طاہر القادری بتائے کہ پولیس کو حملہ آور ہونے کیلئے مظلوموں کو کس نے اکٹھا کیا، رپورٹ میں کوئی ایک لفظ نہیں ہے جو شہباز شریف کو ذمہ دار ٹھہراتا ہو، غیر متعلقہ شواہد پر رپورٹ کو بنایا گیا ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ نا مکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ شہادت کے طور پر پیش نہیں کی جا سکتی، بے شمار شہادتیں میڈیا کے پاس ہیں اور کلپس بھی موجود ہیں، ان لوگوں کو 14 اگست کے لانگ مارچ کیلئے لاشیں دکار تھیں، موقع پر موجود کسی پولیس اہلکار کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔رپورٹ کے مطابق مجھ پر الزام ہے کہ بیریئر ہٹانے کا میں نے کہا تھا، ایجنسیوں کی رپورٹ کو اس رپورٹ کے ساتھ منسلک نہیں کیا گیا، مختلف ایجنسیز کی رپورٹ میں دونوں طرف سے فائرنگ کا ذکر ہے، علامہ قادری جنہیں مظلوم کہہ رہیں وہ پولیس پر حملہ کیلئے جمع کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ قادری خود سانحے کے ذمہ دار کا فیصلہ کرے، پولیس میں ہر فرقے سے لوگ موجود ہیں،اور ان میں سے کسی کو کسی بھی نعرے سے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی، پولیس میں فرقہ وارانہ بنیاد پر بھرتی نہیں کی جاتی، پنجاب حکومت آئین و قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے، رپورٹ میں کسی حکومتی شخصیت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، قانون کی نظر میں رپورٹ میں خامی ہے، رپورٹ غیر مصدقہ اطلاعات پر مبنی اور نا مکمل ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس رپورٹ میں ایک لفظ بھی نہیںکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور نہ ہی رپورٹ میں موقع پر موجود کسی پولیس افسر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، اس وقت 124ملزمان عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔ وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کے ورکرز کی جانب سے مزاحمت کی گئی اور پولیس پر حملہ کیا گیا، وہ کون لوگ تھے جنہوں نے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو اشتعال کیلئے ابھارا، ہمیں شک ہے کہ اس رپورٹ کو بھی نقطہ نظر سے ہٹ کر استعمال کیا جائے گا، یہ معاملات عدالت میں حل کئے جانے چاہئیں،اگر یہ رپورٹ پبلک کی جاتی ہے تو کم از کم ہمارے ٹرائل کو متاثر نہ کرے، رپورٹ غیر مصدقہ اطلاعات پر مبنی اور نا مکمل ہے، رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ قادری خود فیصلہ کرے ، وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر رپورٹ پبلک کی ، رانا ثناء اللہ نے کہا کہ رپورٹ میں کسی حکومتی عہدیدار کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، میڈیا کے پاس بے شمار شہادتیں اور کلپس موجود ہیں، قانون کی نظر میں رپورٹ میں خاص ہے، ایجنسیوں کی رپورٹ اس رپورٹ کے ساتھ منسلک نہیں کی گئی، رپورٹ میں مجھ پر الزام ہے کہ میں نے بیریئر ہٹانے کا حکم دیا،یہ رپورٹ ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس دن کسی طرف سے میرے استعفیٰ کا مطالبہ نہ ہو مجھے حیرت ہوتی ہے، میں نے اپنی پوری پریس کانفرنس میں ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف کوئی زبان استعمال نہیں کی، مجھے اس معاملے میں شہبازشریف کی طرف سے بھی مجھے ہدایت جاری کی گئی ہے، رپورٹ میں قانونی کمی بیشی کو سامنے لانا میرا حق ہے، سانحے کے دن جائے وقوعہ پر جو کچھ ہوا طاہر القادری سب جانتے ہیں، پنجاب پولیس مسلک کی بنیاد پر قائم نہیں ہے، برصغیر اور پاکستان کے مسلمان اپنے ایمان میں نبی کریمؐ سے محبت کو اولین ترجیح دیتے ہیں، ختم نبوتؐ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
Facebook Comments