61

صوبائی حکومت کی طرف سے اپر چترال کو ضلع کا درجہ دینے پران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چترال 2کے نام سے نو ٹفیکیشن اور ضلع کے قیام کے لئے کم از کم 5ارب روپے جاری ہونی چاہیے؛۔مولانا عبد الاکبر چترالی

Image may contain: 5 people, people sitting and indoorچترال(نمائندہ آواز) سابق ممبر قومی سمبلی اور جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبد الاکبر چترالی نے دیگر ساتھیوں امیر جماعت اسلامی ضلع چترال مولانا جمشید احمد ،حکیم مجیب اللہ اور سابق کونسلر حفیظ فضل اللہ کے ہمراہ چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی طرف سے اپر چترال کو ضلع کا درجہ دینے کے اعلان کو علاقے کے عوام کے لئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے جماعت اسلامی کی طرف سے بھر پور حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس ضلع کا قیام وقت کا تقاضا تھا کیونکہ ساڑھے چودہ ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے علاقے کے عوام کو اپنے ضروری کاموں کے لئے طویل سفر کرکے چترال شہر آنا پڑتا تھا اپر چترال کو ضلع کا درجہ دینے سے اُن کے مشکلات میں کمی آجائے گی۔اُنہوں نے کہا کہ خاص چترال کے نام کو نہ چھڑا جائے اور یہ ضلع چترال ہی رہے گا کیونکہ اسے خاص چترال کے لاکھوں عوام کو اپنی دستاویزات دوبارہ بنوانے ہونگے جو کہ ایک تکلیف دہ عمل ہے مولانا چترالی نے کہا کہ وزیر اعلٰی کا یہ اعلان زبانی جمع خرچ نہ ہونا چاہیے بلکہ فوری طور پر اپر چترال یا چترال 2کے نام سے نو ٹفیکیشن اور ضلع کے قیام کے لئے کم از کم 5ارب روپے جاری ہونی چاہیے اور اپر چترال کے عوام کومزید مشکلات میں نہ ڈالا جائے۔اپر چترال کے عوام کو عمارتی اور جلانے کی لکڑی کے حصول میں مشکلات نہ ہوں کیونکہ جنگلات سارے جنوبی چترال میں موجود ہیں۔اُنہوں نے مرکزی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ چترال کے زلزلہ زدگان جو اب تک حکومتی امداد سے محروم ہیں فوری امداد کی جائےImage may contain: 5 people, people sitting and indoor

Facebook Comments