109

ڈپٹی کمشنر چترال کے نام خط

نورشمس الدین

آپ کی کھلی کچھری میں آ نہیں سکا وجہ میری بچی کی بیماری تھی اور عین اسی وقت جب آپ مظلوموں کی داد رسی کر رہے تھے۔ میں بچی کو لیکر ڈسٹرکٹ

ہیڈکواٹر ہسپتال پہنچا تھا ایمرجنسی کے بلکل سامنے ایمبولینس کھڑی کرکے راستہ روکا گیا ہے اور گاڑی گھمانے کا کوئی اور زریعہ نہیں حد تو یہ ہے کہ ڈیوٹی پر کھڑا نوجوان آپ کا نام لے لے کر ہم کمزوروں کو ڈرا رہاہے اور حکم دے رہا ہے کہ گاڑی ہسپتال کے اندر کہیں بھی کھڑی نہیں کی جاسکتی اور یہ عزت مآب حاکم چترال جناب ڈپٹی کمشنر صاحب کا حکم ہے۔
زرا تصور کیجیے کہ اپ ایمرجنسی میں اپنی بچی لیکر ہسپتال پہنچ جاتے ہیں بچی لیکر اندر جانے کے بجائے اپ کو گاڑی ہسپتال سے باہر لے جاکر پارک کرنے کے لیے کہا جاتا ہے اور آپ اکیلے ہیں۔۔۔ آپ کس کی فکر کریں گے بچی کی یا گاڑی کی؟
میں نے بچی کو گاڑی پر ترجیح دی اور آپ کے حکم کی خلاف ورزی کردی۔۔۔ سزا تو ملے گا مجھے اور ملا بھی۔۔۔دوبارہ سے آپ بھی دے سکتے ہیں۔۔۔ لیکن زرا دل پر ہاتھ رکھ کر فرمایے کہ وہ لوگ جو ذاتی گاڑی میں ایمرجنسی حالت میں اکیلے اپنے کسی عزیز کو لیکر ہسپتال آتے ہیں وہ کہاں جائیں؟
حضور اپنا یہ ایمبولینس زرا دھکا دلواکر کہیں اور پارک کروائیں اور کانٹینر والا روایت چترال لانے کی زحمت نہ کریں۔ اگر ایمبولینس ہٹ گیا تو بندہ زرا اگے کھلی جگہ جاکر گاڑی سائیڈ کرکے اپنے عزیز کا فوری چیک آپ کروانے کے بعد ایڈمٹ ہونے کی صورت میں اسے اکیلا چھوڑ کر گاڑی کہیں دور لے جاسکے گا۔۔۔ یا کم ازکم وہاں سے ٹرن کرکے واپس کسی کلینک میں پہنچ سکتا ہے۔
خدانخواستہ موجودہ صورت حال میں کوئی ایکسڈینٹ وعیرہ ہوکے چار گاڑیاں ایک ساتھ ہسپتال داخل ہوییں تو وہ پھسے رہیں گے کہ اس ایمبولینس اور دوسری سائیڈ والے راستے پر پتھر ڈال کر بند کرنےکی وجہ ایمرجنسی سے ہسپتال کے میں گیٹ تک واپس پہنچنے کے لے ریورس گیر ہی واحد زریعہ ہے۔
ایمبولینس یہاں کھڑی کرنے سے بہتر ہے کہ یہ پہلے کیطرح کجرے اٹھاکر انہیں پانی میں ڈال کر آیا کرے۔۔
آپ کا ایک ادنیٰ راعی
نورشمس الدین

Facebook Comments