54

چترال ایک کثیر الآفاتی ضلع ہے ۔ یہاں زلزلے ، سیلاب اور برف کے تودوں کا گرنا معمول بن چکا ہے ۔امیر محمد

چترال (آوازنیوز) آغا خان ایجنسی فار ہیبٹاٹ کے ایمر جنسی منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے چترال کے لوگوں پر زور دیا ہے ۔ کہ وہ آفات سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے اُن مقامات اور جگہوں کو استعمال کریں ۔ جہاں جانی تحفظ کے امکانات زیادہ ہوں ۔ کیونکہ انسانی جان بہت قیمتی ہے ۔ چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں SHAKE OUT DRIL 2017کے موضوع پر ہونے والے ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے امیر محمد ہیڈ ایمرجنسی منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور جاوید احمد پروگرام آفیسر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال ایک کثیر الآفاتی ضلع ہے ۔ یہاں زلزلے ، سیلاب اور برف کے تودوں کا گرنا معمول بن چکا ہے ۔ خصوصا زلزلے کے لحاظ سے فالٹ رینج زون فور میں واقع ہونے کی وجہ سے خطرات تشویشناک صورت اختیار کر چکے ہیں ۔ اس لئے ان آفات کے نتیجے میں ممکنہ جانی و مالی نقصانات میں کمی لانے کیلئے آزمودہ تجربات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ 2005کے زلزلے میں سب سے زیادہ نقصانات انسٹیٹیوشنز کو پہنچا ۔ خصوصا سکول و کالج کے سٹوڈنٹس اور اساتذہ بڑی تعداد میں جان بحق ہوئے ۔ کیونکہ اُن اداروں کی عمارات زلزلہ پروف اصولوں کے مطابق تعمیر نہیں کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا ۔ کہ بچوں کو تحفظ دینے کیلئے اُن کو Drop Cover and Hold On کی تعلیم دینی چاہیے ۔ اور یہ عمل سکول و کالج اور گھریلو سطح پر دوہرانا چاہیے ۔ اُنہوں نے کہا ۔ کہ اس عمل کے تحت زلزلے کے دوران وہ افراد جن کو کھلے میدان میں نکل کر خود کو بچانے کی سہولت حاصل نہیں ۔ وہ اپنے آفس ،گھروں اور کام کے جگہوں میں میز ، کرسی کے نیچے یا کسی ایسے کونے میں جسے محفوظ خیال کیا جا سکتا ہو ۔ زمین پر دو زانو اوندھے بیٹھ کر سر پرہاتھ رکھتے ہوئے زلزلے کے رُکنے کا انتظار کریں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ گھروں اور دفاتر میں محفوظ مقام کے بارے میں تمام افراد کو معلوم ہونا چاہیے ۔ اور اس حوالے سے ایک پلان پہلے ہی سے ترتیب دینا چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا ۔ کہ چترال میں تعمیرات سائنسی اصولوں کے مطابق زلزلہ ، سیلاب اور برف کے تودوں کے ممکنہ خطرات کو پیش نظر رکھ کر کئے جائیں ۔ پروگرام کے مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ آفیسر فداء الکریم نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ خیبر پختونخوا آفات کے لحاظ سے پورے پاکستان میں پہلے نمبر پر ہے ۔ اس لئے کسی بھی حالت سے نمٹنے کیلئے ہمیں خود کو تیار رکھنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ڈیزاسٹر کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈر اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔ تاکہ بہتر سے بہتر منصوبہ بندی کی جا سکے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ریلیف ایکٹ میں کئی چترال جیسے علاقوں کے نقصانات کو پیش نظر رکھ کر ترمیم کی ضرورت ہے ۔ لیکن یہ پالیسی لیول کا کام ہے ۔ تاہم ہم اپنی طرف سے تجاویز نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ کو بھیج دیتے ہیں ۔ انہوں نے چترال میں آفات کے نقصانات سے بچاؤ کیلئے آگہی پھیلانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ریجنل پروگرام آفیسر ولی محمد نے پروگرام کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ ورکشاپ میں بڑی تعداد میں سکول و کالج کے اساتذہ ،طلبہ اور مختلف سول سوسائٹی ایکٹی وسٹ نے شرکت کی ۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں