59

معزز ججوں نے مجھے نہیں 20 کروڑ عوام کو نااہل کیا، نواز شریف

جہلم میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ میرے پاس آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں جب کہ 2013 میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ سے کہا تھا ملک بڑی مشکل میں ہے، معیشت تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے، ملک اندھیروں میں ڈوب چکا تھا، مزدور طبقہ پریشان تھا لیکن میں نے وعدہ کیا تھا کہ اس ملک سے اندھیروں کو ختم کردوں گا اور روشنیوں کو واپس لے کر آؤں گا اور آج روشنیاں واپس آچکی ہیں، لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے جو اگلے سال مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر چل رہا تھا، ملک میں امن قائم ہورہا تھا، ورنہ کراچی برباد ہورہا تھا، بلوچستان بھی خدانخواستہ ڈوب رہا تھا لیکن ہم نے ان سب مسائل کو سنبھالا اور ملک میں موٹرویز کا ایک جال بچھایا جب کہ دیانت داری کے ساتھ ملک کی امانت کو امانت سمجھا اس میں کبھی خیانت نہیں کی لیکن پتہ نہیں پھر بھی مجھے کیوں نکالا حالانکہ مجھ پر کسی قسم کا کرپشن کا دھبہ نہیں ہے، مجھے صرف اس لیے نکالا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہورہا تھا، سی پیک کا منصوبہ آگیا تھا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر پاکستان کی ترقی کا یہ سفر جاری رہتا تو ایک ایک بے روزگار نوجوان کو روزگار مل جاتا، خدا جانتا ہے مجھے اپنی فکر نہیں بلکہ اس قوم کے نوجوانوں کے مستقل کی فکر ہے جوروشن ہونے جارہا تھا لیکن میں ان سے کہتا ہوں کہ مایوس نہ ہونا، خدا تمہارے ساتھ ہے اور اس قوم کا مستقبل تاریک نہیں ہوگا۔

نواز شریف نے کہا کہ 70 سالوں سے اس ملک کے ساتھ مذاق ہوتا آرہا ہے اور قوم کا استحصال کیا جارہاہے، آج تک کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کرسکا جب کہ آپ ووٹ دے کر حکومتیں بناتے ہیں لیکن آپ کی توہین کی جاتی ہے، کیا یہ سب آپ کو برداشت ہے، کیا آپ اس کا حساب نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اقتدار کی کوئی پروا نہیں اور میں آپ کے پاس ووٹوں کے لیے نہیں آیا بلکہ میں اسلام آباد سے لاہور اپنے گھر جارہا ہوں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئین کو ڈکٹیٹرتوڑتے ہیں اور پھر 10،10 سال حکومت کرتے ہیں، کیا اس ملک میں کوئی ایسی عدالت ہے جو آمروں کا احتساب کرے جو کمر کی تکلیف کا بہانہ کرکے ملک سے بھاگ جاتے ہیں لیکن

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں