80

جماعت اسلامی نے شفافیت، اچھی طرز حکمرانی اور صوبے کی ترقی میں پی ٹی آئی کی قیادت میں مخلوط حکومت میں اپنا کردار مثالی انداز سے ادا کیا۔عنایت اللہ خان

پشاور (آوازنیوز)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے صوبائی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر سینئر وزیر بلدیات عنایت اللہ خان کے ہمراہ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پرویز خان خٹک سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی ، صوبے کی سیاسی صورتحال اورحکومت کے ترقیاتی اقدامات اور پراجیکٹس زیر بحث آئے۔ ملاقات میں ان امور کے ساتھ ساتھ خیبر بنک سکینڈل کی کاروائی کو منطقی انجام تک جلد از جلد پہنچانے پہ بھی بات ہوئی۔ مشتاق احمد خان نے وزیر اعلیٰ پر واضح کیا کہ جماعت اسلامی نے شفافیت، اچھی طرز حکمرانی اور صوبے کی ترقی میں پی ٹی آئی کی قیادت میں مخلوط حکومت میں اپنا کردار مثالی انداز سے ادا کیا۔محکمہ زکوٰۃ و عشر ، محکمہ بلدیات اور محکمہ خزانہ کی چار سالہ بہترین کارکردگی کا اعتراف ملکی میڈیا اور عوام بھی کررہے ہیں۔ مشتاق احمد خان نے واضح کیا کہ ایم ڈی خیبر بنک نے بنک کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے وزیر خزانہ پر لغو، بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگائے، جس کو صوبائی کابینہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے تفصیلی تحقیقات کے بعد غلط ثابت کیا اور ایم ڈی کو مجرم قرار دیا گیا۔ اس تحقیقاتی رپورٹ کو صوبائی کابینہ نے منظور کرتے ہوئے ایم ڈی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے اور ان کے خلاف قانونی اقدامات اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا لیکن یہ بات باعث افسوس ہے کہ صوبائی کابینہ کے فیصلے کے باوجود ایم ڈی کے خلاف ابھی تک کوئی عملی تادیبی قدم نہیں اٹھایاگیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں دس رکنی پارلیمانی کمیٹی اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے بنائی گئی لیکن ابھی تک اس کمیٹی کا ایک اجلاس بھی منعقد نہیں کیا گیا۔ ایم ڈی نے دوسرے اشتہار کے ذریعے اپنے جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہے جو کہ جماعت اسلامی کی شفافیت اور صاف کردار کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ڈی خیبر بنک کے خلاف ابھی کسی قسم کی کاروائی نہ ہونے پر ہمیں شدید تحفظات ہیں۔ بنک میں موجود ایک طاقتور لابی کو بنک کا اسلامک بینکنگ کردار ہضم نہیں ہورہا۔ یہ لابی بنک کو پرائیویٹائزیشن کے ذریعے بنک کے اوپر قبضے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ڈی کی تعیناتی غیر قانونی اور خلاف میرٹ ہوئی ہے۔ بنک میں ہونے والی بھرتیوں کے اوپر تحقیقاتی رپورٹ میں بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ایم ڈی کے خلاف تادیبی کاروائی نہ ہونے سے پی ٹی آئی قیادت کی طرف بھی انگلیاں اٹھنا ایک فطری بات ہے۔وزیر اعلیٰ کی قیادت میں بننے والی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب نہ کرنا باعث حیرت ہے۔ جماعت اسلامی نے یہ مطالبہ کیا کہ ایم ڈی کے خلاف کاروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کم سے کم وقت میں وزیر اعلیٰ اور پی ٹی آئی کی قیادت نظر آنے والے فیصلہ کن اقدامات کریں۔جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے واضح کیا کہ خیبر بنک کے تحفظ کے لئے جماعت اسلامی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ۔ ہم ایم ڈی کے خلاف تادیبی کاروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔وزیر اعلیٰ پرویز خان خٹک نے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان کو ایم ڈی کے خلاف قانونی کاروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کی یقین دہانی کروائی اور ایک ہفتے کے اندر صوبائی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کے احکامات جاری کئے۔ انہوں نے مخلوط حکومت میں جماعت اسلامی کی کارکردگی کو سراہا۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں