21

حکمران ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر عوامی خدمت کے جھوٹے دعوے کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے لوڈشیڈنگ کا غیر اعلانیہ دورانیہ بڑھایا جارہا ہے ۔ عنایت اللہ خان

پشاور ( آوازنیوز )سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا و پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے 2013 ء کے انتخابات میں توانائی بحران پر قابو پانے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کیے تھے مگر چار سال گزرنے کے بعد بھی حکومت اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکی اور پورے ملک میں عوام بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں۔2013 ء سے پہلے جتنی لوڈشیڈنگ ہورہی تھی ، آج اس سے دگنی ہورہی ہے ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے کاروبار زندگی ٹھٹ ہو چکاہے ۔ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے چاروں طرف اندھیروں کا راج ہے مگر حکمران ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر عوامی خدمت کے جھوٹے دعوے کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے لوڈشیڈنگ کا غیر اعلانیہ دورانیہ بڑھایا جارہا ہے ۔سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے گرمی بڑھنے کے ساتھ ہی لوڈشیڈنگ میں ہوشربا اضافے اور عوامی مشکلات پرشدیدتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے20کروڑ عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اس وقت شہروں میں14اوردیہات18گھنٹوں تک بجلی کی بندش سے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے ہیں۔وزیر اعظم کی جانب سے نوٹس لینے کے باوجود کسی قسم کی کوئی بہتری نہیں آئی۔حکومتی وزراء کے لوڈشیڈنگ میں کمی کے تمام دعوے ہوا میں تحلیل ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کئی علاقوں میں مینٹینس کے نام پرکئی گھنٹوں تک بجلی کی بندش کردی جاتی ہے۔عوام سراپااحتجاج ہیں۔انہیں پینے کے لیے پانی تک میسر نہیں۔انہوں نے کہاکہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کاروبار تباہ وبرباد ہوچکے ہیں۔صنعتیں بند ہونے سے ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔مزدوروں کے بچے فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔لوڈشیڈنگ سے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا شخص شدیدمتاثر ہے۔حکمران چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ سے نجات نہیں دلاسکے۔پھر انہوں نے ایک سال میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کاوعدہ کیا مگر اب تو 4سال ہوچکے ہیں اور عوام کوبجلی کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات نہیں مل سکی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے وسائل سے مالامال بنایا ہے۔سستی بجلی حاصل کرنے کے لیے ہوا،پانی،کوئلے سے استفادہ کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں