104

وکلاء برادری کی حلف برداری تقریب

چترال (نمائندہ آواز) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چترال صوفیہ وقار خٹک نے کہا ہے کہ بار اور بینچ ایک دوسرے سے جد ا اور الگ نہیں بلکہ ایک بڑی فیملی کی مانند ہیں جن کے مسائل اور چیلنجز ایک جیسے ہیں جن کو مل کرہی حل کیا جاسکتا ہے اور اس تناظر میں وکلاء برادری کو درپیش مسائل کو دور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا جائے گا اور دستیاب وسائل سے ذیادہ سے ذیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔ ہفتے کے روز ڈسٹرکٹ بار روم میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ضلع چترال میں پہلی مرتبہ آفیشنل ویب سائٹ (www.districtcourts.gov.pk)لانچ کیا گیا ہے جس میں ڈسٹرکٹ جوڈیشری سے متعلق مکمل معلومات فراہم ہوں گے جس سے وکلاء برادری کو کئی سہولیات بہم پہنچ جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اس ویب سائٹ میں ججوں کی چھٹی پر چلے جانے کی اطلاع سے وکیل اور موکل دونوں عدالت آنے کی زحمت سے بچ جائیں گے جبکہ وکلاء حضرات کو صرف ان مقدموں کی تیاریوں کے لئے ذیادہ وقت دستیاب ہوگا جن کے ججز موجودہوں۔ انہوں نے کہاکہ ججوں کے کیمپ کورٹوں کے منعقد نہ ہونے سمیت دوسرے معلومات نہ صرف ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گے بلکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکرٹری کو بھی مسیج اور ٹویٹر کے ذریعے بھی یہ معلومات بھیج دئیے جائیں گے۔ انہوں نے اس موقع پر نومنتخب عہدیداروں سے حلف لیا جن میں صدر ساجداللہ ایڈوکیٹ، محمد اسحاق نائب صدر، پیر سید مختار علی شاہ جنرل سیکرٹری ، فضل معبود فنانس سیکرٹری اور شمس عالم لائبریری سیکرٹری شامل تھے۔ اسے قبل اپنے خطاب میں نومنتخب صدر ساجد اللہ ایڈوکیٹ نے بار اور بینچ کے درمیاں بہتر تعلق اور رابطہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انصاف کے حصول کے لئے کچہریوں کا رخ کرنے والے عوام کو انصاف کی فراہمی ان دواداروں کی ذمہ داری ہے جبکہ اس میں میڈیا کا بھی ایک کردار متعین ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈسٹرکٹ بارکا مالیاتی اور وسائل کے لحاظ سے مضبوط ہونا ضروری ہے ورنہ وکلاء کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دینے میں مشکلات پیش آئیں گے۔ اس موقع پر چترال سے ٹرانسفر ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج زاہدمحمود نے بھی خطاب کیا اور چترال میں اپنی تعیناتی کے دور کو اپنی سروس کا گولڈن دور قرار دیا۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے انہیں وکلاء برادری کی طرف سے چترال کے روایتی تخفے واسکٹ اور چترالی ٹوپی پیش کی۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں