165

ہمارے نوجوانوں اور بزنس کمیونٹی کو آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے خود کو تیار کرنا ہو گا ۔ حاجی مغفرت شاہ

چترال ( نمائندہ آواز ) ضلع ناظم چترال حاجی مغفرت شاہ نے کہا ہے ۔ کہ نوجوان ہمارا عظیم سرمایہ ہیں ۔ کیونکہ مستقبل اُن کا ہے ۔ تاہم آنے والا وقت بہت بے رحم ہے ۔ اس لئے ہمارے نوجوانوں اور بزنس کمیونٹی کو آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے خود کو تیار کرنا ہو گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایک مقامی ہوٹل میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کی طرف سے نوجوانوں کے ایلی ( EELY) پروگرام کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر مستوج محمد حیات شاہ ، آر پی ایم سردار ایوب ، صدر چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سرتاج احمد خان تحصیل نائب ناظم مستوج فخرالدین ، ناظمین ، سرکاری اداروں کے نمایندگان ، چیرمین سی سی ڈی این محمد وزیر خان ، ایل ایس اوز کے چیرمینان اور بڑی تعداد میں مختلف کمیونٹی آرگنائزیشنز اور این جی اوز کے مردو خواتین کارکنان اور ایکٹی وسٹ موجود تھے ۔ ضلع ناظم نے کہا ، کہ ایل ایس اوز چترال کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے چترال کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے دس سالہ پلان بنایا ہے ۔ اور ہم ایل ایس اوز کو لے کر یہ پلان کامیاب بنانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ، کہ آر ایس پی این کی طرف سے ایل ایس اوز کا قیام ایک اہم کارنامہ ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے ۔ کہ ان سے بہتر کام لیا جائے ۔ مغفرت شاہ نے کہا ۔ کہ میں نے اپنے سابقہ دور نظامت میں بھی ایل ایس اوز کی بھر پور مدد کی ۔ اور اب بھی ان ہی مقامی معاون اداروں کے ذریعے ہی چترال کی تعمیر و ترقی کے کام کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ آنے والا وقت بہت بے رحم ہے ۔ لواری ٹنل کی تکمیل کے بعد چترال کی طرف کاروباری لوگوں کاہجوم اُمڈ آئے گا ۔ ہم اُن سرمایہ کاروں کو روکنے کیلئے نہیں بلکہ اُن کی مدد کیلئے ایک مضبوط فورم چاہتے ہیں ۔ اور وہ فورم ہمارے پاس چترال چیمبر آف کامرس کی صورت میں موجود ہے ۔ جس کے قیام میں سابق تحصیل ناظم چترال سرتاج احمد خان کا بہت بڑا کردار ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کی معاشی ترقی کی راہیں کھولنے میں چترال چیمبر اہم کردار ادا کرے گا ۔ انہوں حاضرین سے کہا ۔ کہ وہ چیمبر کے ساتھ بھر پور تعاون کریں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ خوشی کا مقام ہے کہ ہم نے اپنی سمت کا تعین کیا ہے ، جس سے ہم باہمی تعاون اور اتفاق و اتحاد سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں ۔ تاہم اس کیلئے اپنی روایتی امن کے کلچر کا تحفظ کرنا ہو گا ، جسے ہمارے اباؤ اجداد نے صدیوں سے مشکلات اور مصائب کے باوجود خون آلود نہیں ہونے دیا ۔ آج ہم پر یہ فرض عائد ہوتی ہے ۔ کہ فوائد لینے کے وقت اسے متاثر نہ ہونے دیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط بنا ہوگا ۔ اور جس کمیونٹی کے پاس اچھے اور قابل اعتماد ادارے ہوں گے ۔ وہ علاقے کی ترقی میں اچھی کارکردگی دیکھا سکیں گے ۔ قبل ازین آر پی ایم اے اکے آر ایس پی سردار ایوب نے صبح کی پہلی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ اے اکے آر ایس پی گذشتہ تیس سالوں سے کمیونٹی کے ساتھ تنظیمات کے ذریعے سے کام کر رہا ہے ۔ اور ایلی پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اُبھارنے ، لیڈر شپ پیدا کرنے اوراُن کو خود روزگاری کے تحت اپنے پاؤں آپ کھڑے ہونے کیلئے تربیت فراہم کی گئی ۔ جس سے چترال کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو بالواسطہ اور بلا واسط طور پر فائدہ پہنچا ۔ چترال میں یو تھ سنٹر کا قیام عمل میں آیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اُن کو اس بات کا یقین ہے ۔ کہ جن نوجوانوں نے ایلی کے زیر اہتمام تربیت حاصل کی ہے ۔ وہ چترال کی ترقی میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں گے ۔ اسسٹنٹ کمشنر مستوج نے پہلی نشست کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ موجودہ حکومت کی پالیسی میں یہ بات شامل ہے ۔ کہ تمام تر ترقیاتی کاموں اور سرگرمیوں میں نوجوانوں کو شامل کیا جائے ۔ اور اے کے آر ایس پی نے نوجوانوں کو ملکی ترقی کے دھارے میں لانے کیلئے جو اقدامات کئے ہیں وہ قابل تعریف ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال ڈیزاسٹر کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہو ا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ تاہم یہ بات باعث افسوس ہے ۔ کہ آج سب حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ جبکہ اسی قسم کے آفات کے موقع پر کمیونٹی کے لوگ دل کھول کر ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے ۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بھر پور تعاون کی یقین دھانی کی ۔ چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیرمین سرتاج احمد نے کہا ۔ کہ سی پیک اگرچہ ہمارے لئے معاشی ترقی کے مواقع مہیا کرتا ہے ۔ تاہم اس کیلئے کاروباری اُصولوں اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق حکمت عملی اور لائحہ عمل طے نہ کیا گیا ۔ تو اس کے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کئے جا سکیں گے ۔ انہوں نے نوجوانوں اور خواتین پر زور دیا ۔ کہ وہ آنے والے تیز ترین کاروباری حالات کیلئے خود کو تیار کریں ۔ اس سلسلے میں چترال چیمبر آپ کی بھر پور مدد کرے گا ۔ انہوں نے چیمبر کے زیر اہتمام چترال میں ایک بڑے کاروباری کنونشن کے انعقاد کا اعلان کیا ۔ پروگرام میں گروپ ورک بھی کیا گیا ۔ جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ۔ کہ ایلی پراجیکٹ کے تحت کیا کیا اہداف حاصل کئے گئے ۔ اور آیندہ کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے منیجر آئی ڈی فضل مالک ، انسٹیٹیوشنل سپشلسٹ شہباز خان ، سجاد علی شاہ اور دیگر نے پریزنٹیشن کی صورت میں تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ جبکہ مختلف گروپوں کی سفارشات کو بھی یکجا کیا گیا ۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں