47

خیبرپختونخوا میں سالانہ 90 ہزار خواتین چھاتی کے کینسر کا شکار ہونے لگیں

پشاور:(آوازچترال رپورٹ) وزیر صحت خیبرپختونخوا ڈاکٹر ہشام انعام اللہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں سالانہ 90 ہزار خواتین چھاتی کے کینسر کا شکار ہونے لگیں ہیں جن میں 40 ہزار خواتین موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ پشاور میں عورتوں میں چھاتی کے کینسر کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پہلے 10 سرفہرست کینسر میں عورتوں کا چھاتی کا کینسر ٹاپ پر ہے۔ صوبے میں سالانہ 90 ہزار خواتین چھاتی کے کینسر کا شکار ہورہی ہیں۔ بدقسمتی سے ان 90 ہزار میں سے 40 ہزار خواتین موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ حکومت ان اموات کو کم کرنے کے لئے تمام وسائل استعمال کررہی ہے۔ جس کے لئے قانون سازی بھی زیر غور ہے۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ جلد ہی صوبے کا پہلا جدید ترین کینسر اسکریننگ سینٹر کا افتتاح کیا جائے گا جب کہ نئے بننے والے انسٹی ٹیوٹ آف ہیپٹالوجی کی پوری ایک منزل چھاتی کے کینسر کا شکار عورتوں کے علاج کےلئے مختص ہوگی، جہاں خواتین کا مفت علاج ہوگا۔ صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ صوبے میں مختلف اقسام کے کینسر کا شکار افراد کے مفت علاج کےلئے صوبائی حکومت نے 3 ارب مالیت کے منصوبے کو متعارف کرارکھا ہے۔ اس منصوبے میں 24 ارب روپے کے اخراجات نوریٹس ادویہ ساز کمپنی برداشت کررہی ہے. اب منصوبے کے تحت چھاتی کے کینسر کا شکار عورتوں کے علاج کےلئے ایک ادویہ ساز کمپنی کے اشتراک سے خصوصا 2 اضلاع چترال اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،یہاں عورتوں کےلئے کیمو تھیراپی سنٹرز بھی قائم کئے جائیں گے۔