36

پردیس میں بیٹے کی کمائی پر عیاشی اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ردیس کہانی

خاصی دوڑ دھوپ کے بعد اسے سعودی عرب میں سپروائزر کی نوکری مل گئی تو والدین کی آنکھوں میں امید کے دئیے جل اٹھے
ممتاز شیریں۔دوحہ۔قطر
گھر میں ایک دو نہیں ،ایک ساتھ 7 بہنیں ہوں اور سب سے چھوٹی بھی اسکول جانے لگی ہو۔۔۔اور باپ ضعیفی اور دل کے مرض کے سبب بستر کا مستقل مہمان بن چکا ہو تو سارے گھر کی ذمہ داری سب سے بڑے بیٹے پر ہی آ جاتی ہے۔
احسن کے ساتھ بھی وہی معاملہ تھا جو پاکستان کے چند ایک نہیں کئی لاکھ گھرانوں کا مسئلہ ہے۔
احسن 3 بڑی بہنوں کے بعد چوتھے نمبر پر تھا اس کے بعد ساری بہنیں ہی بہنیں تھیں۔
جن کو دیکھ کر ماں ڈر سی جاتی تھی کہ اتنی ساری بیٹیوں کی شادیاں آخر کس طرح ہوں گی۔۔۔؟ اسی ڈر سے ساری بہنیں کبھی اکٹھی نہیں بیٹھتی تھیں۔۔۔3 اِدھر۔۔۔۔3 اْدھر۔۔۔۔ایک چھت پر بنے کمرے میں۔۔۔۔۔
آخر منصوبہ بندی کے تحت 4بہنیں جو سب سے بڑی تھیں اوپر کے کمرے میں مستقل مقیم ہو گئیں۔۔۔۔3 نیچے رہنے لگیں۔
متوسط طبقے کی گھریلو لڑکیاں اور کہاں جاتیں اور کیا کرتیں۔۔۔۔آپس میں گھر کے کام تقسیم کر رکھے تھے ۔اپنی ڈیوٹیاں خود ہی تبدیل کرتی رہتیں۔ کچھ گھر سنبھالتیں کچھ ضعیف والدین کی خدمت کرتیں۔۔۔آپس میں بات چیت بھی دھیمی آواز میں کرتیں۔۔۔دبے پاؤں چلتیں کہ ماں باپ کو ذہنی اذیت نہ ہو۔۔۔۔۔الغرض گھر کیا تھا دارلآزمائش تھا۔
احسن کو ان تمام حالات نے عمر سے بڑا سنجیدہ ،محتاط بنا دیا تھا عام نوجوانوں کی طرح ہنسی مذاق اس کی زندگی میں کم ہی آسکا تھا۔کھیل کود سے کبھی دلچسپی تھی لیکن اب گھر کے حالات نے اسے صرف تعلیم کی طرف متوجہ کر دیا تھا شکل و صورت میں سب بہن بھائی ہی اچھے تھے۔
احسن کے دل میں بھی کچھ آرزوئیں اور خواہشیں تھیں جو اس کی عمر کا فطری تقاضہ تھیں لیکن ایسے کسی بھی خیال کے ساتھ اس کی اپنی 7 بہنیں اس کے تصور میں آ کھڑی ہوتی تھیں۔
باپ کی بیماری کے سبب قبل از وقت ریٹائرمنٹ نے احسن کو باہر جا کر کمانے کی دھن سوار کر دی تھی وہ کم وقت میں زیادہ کما کر اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہونا چاہتا تھا۔
جب خاصی دوڑ دھوپ کے بعد اسے سعودی عرب میں سپروائزر کی نوکری مل گئی تو والدین کی آنکھوں میں امید کے دئیے جل اٹھے۔۔۔۔بہنوں کے رخسار گلاب گلاب ہو گئے۔
باپ نے تمام جمع جتھا ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی ساری رقم ،تھوڑا سا گھر کا خرچا رکھ کر احسن کی روانگی کا انتظام کر دیا۔۔۔
جس روز احسن کا طیارہ اڑا اس دن کسی کی آنکھوں سے آنسو نہ تھمتے تھے۔۔
* جدہ کی سمت جاتے احسن نے بہت سے خواب دیکھے تھے اس نے طیارے میں قدم رکھتے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ پہلے 2 سال وہ کسی صورت وطن واپس نہیں جائے گا ۔
ایک ایک پائی جمع کرے گا اور کم سے کم وقت میں پہلی 3بہنوں کی شادیاں کروائے گا۔۔۔۔۔والدین کا کچھ نہیں تو آدھا بوجھ کم ہو جائے گا تنخواہ چاہے کم ہی کیوں نہ ملے وہ نوکری کسی صورت نہیں چھوڑے گا ۔
یہ وہ زمانہ تھا جب پورے مشرق وسطی میں تعمیر و ترقی کا گویا سیلاب آیا ہوا تھا۔ہر طرف دبئی چلو ،سعودیہ چلو ،کویت چلو کا چرچا تھا ہر نوجوان وہیں جانے کا خواب دیکھ رہا تھا۔
احسن اپنی سوچوں سے اس وقت باہر آیا جب طیارے نے جدہ لینڈنگ کا اعلان کیا۔۔۔
2 سال کا عرصہ پر لگا کر اڑ گیا۔
اس زمانے میں موبائیل فون نہیں ہوا کرتے تھے .احسن نے سب سے پہلے گھر میں فون لگوایا۔۔۔۔۔2سال کی کمائی نے گھر کا رنگ و روپ بدل دیا۔جس گھر میں ہفتے میں 5دن دال سبزی پکتی تھی وہاں مرغی پکنے لگی۔ گھر کے حالات تبدیل ہوئے تو جو لوگ پہلے نظریں چرا کر چلتے تھے وہ بہانے بہانے سے گھر کو آنے لگے۔گھر میں نئے سامان کی چکا چوند نے سبھی کی آنکھیں چندھیا دی تھیں۔
احسن نے 2سال اتنی محنت سے کام کیا تھا کہ جلد ہی اس کو سب انجینئر بنا دیا گیا۔ اگلے 2 سالوں میں مزید ترقی کے امکانات موجود تھے۔ اس کی آمدنی خاصی اچھی ہو گئی تھی۔
اب وہ چاہتا تو کسی وقت بھی گھر جاسکتا تھا لیکن جو فیصلہ اس نے طیارے میں بیٹھتے وقت کیا تھا ۔اسی پر قائم رہا صرف انتہائی اشد ضرورت کے پیسے اپنے پاس رکھ کر باقی سب وہ گھر بھیج دیتا تھا رقم گھر آنے لگی تو لڑکیوں کے رشتے بھی خود بخود آنے لگے ۔3بڑی بہنوں کے رشتے والدین نے طے کر دیئے تھے گھر پر نہ صرف یہ کہ شادی کی خریداری ہو رہی تھی بلکہ ایک ساتھ3سمدھیانے والوں کی مہمانداری اور تحفے تحائف کا سلسلہ بھی چل نکلا تھا۔یہ سب دیکھ کر چوتھی لڑکی کا رشتہ بھی آگیا تھا اور کیوں نہ آتا لڑکی کا بھائی سعودیہ میں دن رات پاگلوں کی طرح کام کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے دوستوں کو ٹوکنا پڑا۔۔” احسن بس کرو۔۔۔۔۔اتنا کام کرو گے تو بیمار پڑ جاؤگے۔۔۔۔جو کما رہے ہو اس سے بھی جاؤگے مالکان کے دماغ کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کب اور کس بات پر ناراض ہو کر چلتا کر دیں۔۔۔۔ہم سب ہی اپنی اپنی مجبوریوں کے تحت آئے ہیں ہمیں اپنا بھی خیال رکھنا ہے ہمیں کچھ ہو گیا تو وہاں ماں بہنوں کا کیاہو گا۔
دوستوں کے سمجھانے پر احسن نے کچھ وقفہ لیا۔۔۔۔
چوتھی بہن کا رشتہ آنے پر اسے خوشی بھی ہو ئی اور فکر بھی بڑھ گئی۔۔دوستوں نے مشورہ دیا کہ چوتھی کی شادی2 سال کے بعد رکھ دو ابھی ایک ساتھ3 ہیں۔ ممکن ہے کہ سمدھیانے والے ایک کے بعد ایک کے بجائے ایک ساتھ ہی رخصتی کا مطالبہ کردیں ۔چوتھی کا رشتہ منظور کر لو لیکن کچھ مہلت لے لو تاکہ تم پر بوجھ نہ آئے۔
احسن نے یہ ساری باتیں فون پر گھروالوں سے کہہ دیں۔ گھروالوں نے شور مچا دیا کہ ہم کیا بے وقوف ہیں جو تمہارے دوستوں کے مشورے پر چلیں گے۔ آخر خاندان کے بزرگوں نے سمجھایا کہ وہ اکیلا کمانے والا ہے ،پردیس میں ہے سارا بوجھ ایک دم سے ڈال دینا کوئی انصاف نہیں ہے شکر ادا کرو کہ اکیلا بیٹا 4 بہنوں کا فریضہ ادا کر رہا ہے خدا اسے عمر اور صحت دے۔۔۔۔۔
بڑی مشکل سے یہ معاملہ ٹلا۔۔۔۔۔چوتھی بیٹی کا رشتہ بھی طے کر دیا گیا اب چوتھے سمدھیانے والوں کی بھی آمدورفت،کھانے پینے،اور تحفے تحائف کا سلسلہ چل نکلا۔ اخراجات ایک دم سے کئی گنا بڑھ گئے تھے۔
اس پر سے یہ ہوا کہ دونوں بڑی لڑکیوں کے سسرال والوں نے رخصتی مانگ لی۔ ان کی دیکھا دیکھی تیسری لڑکی کے سسرال والے بھی یہی مطالبہ لے آئے ۔صلاح مشورہ کر کے تینوں سمدھیانے والوں کو ایک ہی تاریخ دے دی گئی۔۔۔۔
اب جب اخراجات کا حساب لگانا شروع کیا تو انکشاف ہوا کہ اس سے قبل کی بے تحاشاشاپنگ ،بے روک ٹوک مہمانداری ،تکلف در تکلف دعوتوں اور تحفے تحائف کے تبادلے نے سب جمع جتھا ختم کر ڈالا ہے ۔بینک میں صرف اتنی رقم بچی ہے کہ مشکل سے ایک بیٹی ہی کی رخصتی عمل میں لائی جا سکتی ہے3 کی ایک ساتھ ممکن نہیں۔
پھر شادی کے بعد سسرال والوں کی آمد ورفت اور دعوتیں۔۔۔خرچا ہی خرچا۔۔۔اخراجات کا ایک نہ ختم ہونے والا طوفان یہ سب کہاں سے پورا ہوگا۔۔۔۔؟
جب کہ ضعیف والد کی علالت بھی شدت اختیار کر گئی تھی اس کے اضافی اخراجات۔۔۔۔ماں بیٹیوں کے تو اوسان خطا ہو گئے تھے
دراصل خرچ کرتے وقت کسی نے سوچا ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔کمانے والے نے اتنا روپیہ ہر مہینے بھیج دیا تھا کہ اب کس کو پڑی تھی کہ وہ گنتا۔۔۔۔دعوتوں اور شاپنگ پر بے دریغ خرچ کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ سمجھدار بزرگ رشتہ داروں نے سمجھانے کی بھی بہت کوشش کی تھی کہ ابھی اتنا خرچا نہیں کرو ۔آگے بیسوں خرچے آئیں گے لیکن اس وقت سب کے سروں میں یہی سودا سمایا ہوا تھا کہ ہمارے بیٹے ،بھائی کی کمائی ہے تو ہم خرچ کیوں نا کریں۔۔۔؟
سمجھانے والے خاموش ہو گئے کہ ہمیں حسد کاطعنہ ہی نہ مل جائے۔۔۔ اب وہی وقت سامنے آ کھڑا ہواتھا۔
چند دن تو گھر میں خوب چخ چخ ،بحث مباحثہ ہوا ایک دوسرے پر فضول خرچی کے الزامات کا تبادلہ ہی ہوتا رہا لیکن گزشتہ واقعات سے عبرت کسی نے نہیں پکڑی ۔
ادھر تینوں سمدھیانے والوں کے ناز نخرے اٹھتے دیکھ کر چوتھی لڑکی کے سمدھیانے والے بھی کہہ گئے کہ ہمیں بھی جلدی رخصتی چاہئے اماں تو یہ سن کر ہی بستر پر ڈھیر ہو گئیں۔ آخر امان نے احسن کو فون ملا دیا اور جب اسے معلوم ہوا کہ شادیاں سر پہ ہیں اور اخراجات کے لیئے بینک اکاؤنٹ تقریبا خالی پڑا ہے تو اسے چکر آگیا بے اختیار چلا اٹھا۔۔۔۔
"اماں۔۔۔ ! "یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ ؟
” میں نے تینوں کے لیے الگ الگ پیسے، الگ الگ اکاؤنٹ میں بھجوائے تھے بلکہ تھوڑا بہت قرض بھی لے لیا تھا کہ عین وقت پر کسی چیز کا مسئلہ نہ ہو۔۔۔اب آپ کہہ رہیں کہ سب پیسے ختم ہو گئے۔۔”
اماں بھی چیخیں۔۔
” کیا میں جھوٹ بول رہی ہوں۔۔۔یا تمہارے پیسے کھا گئی ہوں۔۔۔؟
احسن کا سر یکبارگی زور سے چکرایا ۔
ریسیور اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا دوست جو قریبی موجود تھے انہوں نے احسن کو سنبھالا۔ ایک نے ریسیور پکڑا۔
” ہیلو۔۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔۔۔آنٹی سنیں۔۔۔تھوڑا سا انتظار کریں۔ احسن کی طبیعت خراب ہو گئی ہے”
ادھر احسن کا حال سن کر اماں کو بھی چکر آ گیا۔۔۔گھر میں رونا پیٹنا مچ گیا۔
اِدھر احسن کو سنبھالا گیا ادْھر اماں کو۔۔
احسن کے حواس بحال ہوئے تو بس اتنا کہا۔
” اماں۔۔۔۔۔۔۔اس وقت زیادہ بات نہیں کر سکتا بعد میں خود رابطہ کروں گا ”
اماں بھی بے دم ہو کر بستر پر تھیں۔
پردیس میں بیٹا پریشان تھا ۔سوچ رہی تھیں اگر بیٹے کی کمائی کو احتیاط سے خرچ کرتیں ،غیر ضروری دکھاوا،دھوم دھڑکا ،نمود و نمائش سے پرہیز کرتیں تو آج یہ مرحلہ آسان ہو جاتا۔۔۔
احسن کے والد کو فی الحال اس صورتحال سے لاعلم ہی رکھا گیا۔ اماں نے ہاتھ دعا کے لیے ا ٹھا دئیے۔ ساتوں بہنوں نے بھی شاید مدتوں بعد ایک ساتھ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔۔۔۔سب کو ہی اپنی کوتاہی کا احساس ہو گیا تھا۔ سب ہی نادم سے تھے کہ بیٹے کی محنت کی کمائی کو کس لاپرواہی سے خرچ کیا تھا۔۔۔۔۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب گھر سے بیٹا، شوہر یا بھائی باہر کمانے چلے جاتے ہیں تو ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اس کمائی کو کن حالات میں کما رہا ہے ریال اتنی آسانی سے نہیں کمائے جاتے زرا جون جولائی کی چلچلاتی گرمی پر نظر ڈالئے۔دسمبر کی ٹھٹھرتی سردیوں کو دیکھیں ان کی زندگی میں آرام اور سکون نہیں ہوتا۔۔۔
خدارا ان کو پیسے کمانے کی مشین نہ سمجھئے ان کی اور ان کے پیسوں کی قدر کیجئے۔۔۔۔۔۔کہ۔۔۔
جو گھر سے دور ہوتے ہیں
بہت مجبور ہوتے ہیں