110

دادبیداد…..مسجد کا عا لمی دن…..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

جب سے عا لمی دِنوں کا چر چا شروع ہوا ہے ہمارے ہاں عجیب لطیفے سر زد ہورہے ہیں گذشتہ روز ٹائیلٹ کا عالمی دن منا یا جا رہاتھا ایک فوٹو جر نلسٹ نے مہمان خصو صی کو ٹائیلٹ کے اندر مخصوص مقام پر بٹھا کر اسکی تصویر یں بنا ئیں مو صوف نے احتجا ج کیا تو جرنلسٹ نے پطرس بخاری،کا مشہور واقعہ سنا یا پطرس بخاری بازار سے گذر رہے تھے ایک دکان کے باہر گھڑیال لٹکتے دیکھا تو دکاندار سے پو چھا کیا تم گھڑیال بیچتے ہو؟ دکاندار نے کہا نہیں میں مسلمانوں کے بچوں کی سنّت کراتاہوں پطرس بخاری نے کہا پھر آپ نے گھڑیال کیو لٹکائی ہے دکاندار نے یہ کہہ کر پطرس بخاری کو لا جواب کر دیا ”آپ ہی بتائیں میں یہاں کیا چیز لٹکاوں؟“اس طرح کا واقعہ ایک بڑے افسر کے ساتھ بھی پیش آیا تھا مو صوف کو ایک این جی او نے مقامی سکول میں تعمیر کئے گئے ٹائیلٹ کے افتتاح کے لئے بلا یا بڑے افسر نے حا می بھری دعوت دینے والے رخصت ہوئے تو انہوں نے سو چا بھلا میں کیمرے کے سامنے ٹائیلٹ کاافتتاح کسطرح کرونگا؟ این جی او کے ذمہ داروں نے کہا ٹائلٹ ابھی تیار نہیں ہوا کام کا افتتاح ہونے وا لا ہے ہم نے پرا گرس رپورٹ میں کسی بڑے افیسر کے ہا تھوں افتتاح کر کے دکھا نا ہے این جی اوز کا بڑا مسئلہ پراگریس رپورٹ ہوتا ہے ہمارے دوست پروفیسر شمس النظر فاطمی این جی اوز میں کام کرنے والوں کو ”این جی او باز“ اور ان کے طریقہ کار کو طریقہ واردات کہتے ہیں ٹائیلٹ کا عالمی دن منا نے کے لئے یورپی یونین، بر طانیہ، امریکہ اور سوٹزر لینڈ سے این جی او ز کو فنڈ، بجٹ، گرانٹ وغیرہ جاری کئے گئے اس کا نام پرا جیکٹ رکھا گیا پراجیکٹ کا طریقہ واردات بہت دلچسپ ہو تا ہے اگر ٹائیلٹ کے لئے 5کروڑ ڈا لر فنڈ منظور کیا جائے تو اس کا 40فیصد کنسلٹنٹ کے لئے مختص ہوتا ہے کنسلٹنٹ یورپ سے آتے ہیں بھاری معا وضہ لیکر رپورٹ لکھتے ہیں کہ افریقہ اور ایشیا میں غر بت بہت زیادہ ہے ٹائیلٹ کا استعمال بہت کم ہے ان مما لک میں ٹائیلٹ کے حوا لے سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے چنا نچہ رپورٹ کی روشنی میں فنڈ کا بڑا حصہ ”آگا ہی“ کے لئے مختص کیا جا تا ہے یہ بھی طریقہ واردات کا حصہ ہے چنا نچہ آگا ہی پھیلا نے کے لئے بڑے بڑے شہروں کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں بڑے بڑے افیسروں، ڈاکٹروں اور پرو فیسروں کو بلا کر سیمنار منعقد کئے جا تے ہیں ان مذاکروں کے لئے ریسورس پرسن بھی یورپ اور امریکہ سے بلائے جاتے ہیں آگاہی کی اس بے مثا ل مہم پر 40فیصد خرچ ہوتا ہے بقا یا 20فیصد میں این جی اوز کا دفتر، فر نیچر، کمپیو ٹر، تنخوا ہوں کا بجٹ وغیرہ آتا ہے ٹائیلٹ کے لئے دو پیسے نہیں بچتے آخر میں تصا ویر وں اور لمبی چوڑی بے معنی رپورٹوں کے ذریعے پرو گریس رپورٹ تیا ر کرکے 5کروڑ ڈا لر کا حساب بے باق کیا جا تا ہے اس کا م میں کرپشن با لکل نہیں ہوتی اس کا ڈیزائن بھی اس طرح بنا یا جا تا ہے کہ 5کروڑ ڈا لر میں سے ٹائیلٹ کو ایک پائی ٹکہ بھی نہ دیا جائے عالمی دن منا نے والوں کا کھیل بہت دلچسپ ہے انہوں نے زمین کا عالمی دن منا یا، پا نی کا عالمی دن منایا، سگریٹ نوشی کا عالمی دن منا یا، بچوں پر تشدد کا عالمی دن منا یا، مظلوم عورت کا عالمی دن منا یا العرض ہزاروں نا موں سے عالمی دن منانے کا ڈھونگ رچا یا اب ہمارا مشورہ ہے کہ مظلوم شوہروں کا عالمی دن منائیں، چار شادیوں کا عالمی دن منائیں، ایک ہی ماں کے 53بچوں کا عالمی دن منائیں سنجیدہ اور قابل عمل تجویز ہے کہ بیچارہ یورپ قلاش ہو گیا ہے مو ضو عات ختم ہو گئے ہیں عالمی دنوں کا کھیل ہمارے حوالے کریں ہم مسجد کا عالمی دن منائینگے قرآن پا ک کا عالمی دن منا ئینگے اذان کا عالمی دن منائینگے اور دنیا کو دکھا ئینگے کہ عالمی دن کیسے منا یا جا تا ہے یقین مانیے ہمارے پاس سنجیدہ مو ضو عات کی کوئی کمی نہیں اگر یہ کام ہمارے حوا لے کیا گیا تو سگریٹ اور ٹائیلٹ جیسے نا موں پر عالمی دن منانے کی نو بت نہیں آئیگی ؎ غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے آتے ہیں غیب سے مضامین خیال میں

Facebook Comments