64

آہ شہزادہ ابراھیم ولی…عنایت اللہ اسیر

   شہزادہ ابراھیم ولی پسر صوبیدار افضل ولی مستوج جو جماعت اسلامی پاکستان کے صف اول کے اراکین اور چتراال میں جماعت اسلامی کے بانی اراکین میں سے تھے شہزادہ ابراھیم ولی میرے ھم عمر دوست اور چچا زاد بھای تھے جن سے قریبی تعلق ان کے مہترچترال سر سید الملک ناصر مرحوم کے سیکریٹری کے طور پر مقرر ھونے کے بعد سے رہا ان کی دیانتداری کا اس بات سے آسانی لگایا جاسکتا ھے کہ اس نے مہترچترال کے کم وبیش 65 مقدمات میں ان کی بہترین نمائندگی کرتے ھوے سب مقدمات میں کامیابی حاصل کی اور کئ سال تک اس اھم عہدے پر با اختیار حیثیت میں اور مشور کے طور فائز رھنے کے باوجود میہتر چترال کا ایک انچ ذمین بھی نہیں بیجا اور اس کے اس عہدے سے بلاوجہ فارغ ھونے کے بعد مہتر چترال کے جائداد کی جو حالت ھوی وہ آپ کے سامنے ھے اس کے بہترین اخلاق شرافت سے سب دوست متعارف ہیں شھزادہ ابراھیم خود داری رواداری پیار محبت کا نمونہ تھے سب سے خوش خلقی سے ملنا اور مسکرا کر ملنا عزت دینا ان کے اخلاق کا حصہ تھے وہ تحریک اسلامی مثالی کارکن اور مخلص ساتھی تھے مرتے دم تک اپنے والد کے مشن پر قایم رھے گھر میں بھی اپنے بال بچوں کے ساتھ ان کا سلوک نہایت مثالی تھا ان کا اپنے چھوٹے بھای ڈاکٹر اسماعیل ولی صاحب سے ان کا تعلق نہایت مشفقانہ اور دوستانہ رہا ان کا تعلق آپس میں نہایت دوستانہ رہا دل کے عارضے میں مبتلا ھو کر سولہ سال تک اس کو خاطر میں نہ لاکر نہایت خوش و خرم ذندگی گزار کر 6 نومبر 2019 بروز بدھ باعمل 10 بجے صبح پشاور کے ہسپتال میں دل کا آپریشن کا میاب ھونے کے بعد گردوں کے فیل ھونے کی سبب اپنے خالق حقیقی سے 68 سال کی پاکیزہ عبادت خدمت محبت اور شرافت کی ذندگی پاکر ھم سے جدا ھوے ان جس خاکی کو پشاور سے چترال لاکر بروز جمعرات بعد نماز ظہر پولو گراونڈ چترال میں کثیر تعداد میں نماز جنازہ شاھی خاندان کے پیش امام شاھی مسجد چترال کے امام قاری شبیر جو سلسلہ نقشبندیہ کے چترال کے سجادہ نشین ھیں ان کے نماز جنازہ کی امامت کی اور بروز جمعرات ان کی تجہیز و تکفین کرکے ربیع الاول کے مبارک مہینے کی جمعرات کے روز تدفین کی گئ ان کے پسماندگان میں دو بیٹے شہزادہ اور پانچ بیٹیاں