27

ڈبلیو ڈبلیو ای……..جاویدچوھدری

ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمٹ پروفیشنل ریسلنگ کی کمپنی ہے‘ یہ 1952ءمیں بنی‘ ہیڈ کوارٹر سٹیم فورڈ کنیکٹی کٹ میں ہے‘ یہ ہر سال ریسلنگ کے پانچ سو بڑے مقابلے کراتی ہے اور دنیا بھر کے لوگ باقاعدہ ٹکٹ خرید کر یہ مقابلے دیکھتے ہیں‘ یہ ایک مہنگی تفریح ہے‘ پہلوانوں پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور ان پر اربوں روپے کا جواءکھیلا جاتا ہے‘ یہ مقابلے بلیک منی کو وائٹ بنانے کا بہت بڑا سورس بھی ہیں‘ رشوت‘ بھتوں‘ اغواءبرائے تاوان‘ منشیات اور ہتھیاروں کی رقم ریسلنگ میں لگائی جاتی ہے اور یہ وائٹ ہو جاتی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ای کے اپنے ٹیلی ویژن چینلز اور سوشل میڈیا پیجز بھی ہیں‘ کروڑوں لوگ ان پیجز اور چینلز سے بھی کشتیاں دیکھتے ہیں‘ کمپنیاں مقابلوں کے لیے باقاعدہ

پہلوان اور ریسلر تیار کرتی ہیں‘ اکھاڑوں‘ جم اور گلیوں سے پہلوان‘ کراٹے کے ایکسپرٹ اور باکسر بھرتی کیے جاتے ہیں‘ ان کے پروفائل بنائے جاتے ہیں‘ اخبارات‘ ٹیلی ویژن چینلز اور سوشل میڈیا پر ان کے اشتہارات چلائے جاتے ہیں‘انہیں چھوٹے بڑے مقابلوں میں آہستہ آہستہ اوپر لایا جاتا ہے اور پھر انہیں ہیرو بنا کر پوری دنیا کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے‘ ریسلنگ کے مقابلے ”فکسڈ“ ہوتے ہیں‘ دو پہلوان اکھاڑے میں اترتے ہیں‘ دنیا انہیں دیکھتی ہے‘ یہ ان پر لاکھوں‘ کروڑوں روپے کے داﺅ لگاتی ہے‘ آرگنائزرز داﺅ کی رقم کے ساتھ ساتھ کھیل کی حکمت عملی تبدیل کرتے رہتے ہیں‘ یہ فیصلہ کرتے جاتے ہیں کس پہلوان نے کس وقت مار کھانی ہے‘ کس نے نیچے سے اٹھ کر اوپر والے پہلوان کے دانت توڑ دینے ہیں‘ کس نے کس کو اٹھا کر رنگ سے باہر پھینک دینا ہے اور کس پہلوان نے کس وقت رنگ سے چھلانگ لگا کر بھاگ جانا ہے‘ کھیل کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک موو فکسڈ اور طے شدہ ہوتی ہے‘ میچ کے تمام حصے ڈائریکشن پر چلتے ہیں اور اس ڈائریکشن کے دوران کمپنی اور کمپنی کے گاہک آسانی سے اپنی رقم دائیں سے بائیں کر لیتے ہیں‘ یہ معاملہ روٹین ہے اور یہ روٹین ایک تسلسل کے ساتھ چلتی رہتی ہے لیکن بعض اوقات اس روٹین میں گڑ بڑ ہو جاتی ہے اور یہ گڑ بڑ عموماً پہلوان‘ ریسلر یا باکسر کی طرف سے ہوتی ہے۔

میچ کے دوران بعض باکسر یا پہلوان اپنی مقبولیت‘ اپنی طاقت اور اپنے جسم کو اصل سمجھ بیٹھتے ہیں‘ یہ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں یہ حقیقتاً سپرمین ہیں اور یہ کسی بھی وقت کسی کو بھی اٹھا کر نیچے پٹخ سکتے ہیں‘ یہ خیال انہیں بغاوت تک لے جاتا ہے اور یہ میچ کے دوران ڈائریکشن کو اگنور کرنا شروع کر دیتے ہیں‘ یہ اپنی مرضی سے جیتنا شروع کر دیتے ہیں‘ یہ مار کھانے کی بجائے مخالف کو مارنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کا ہر مکا کمپنی کے کروڑوں ڈالر برباد کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک میچ یا ایک پہلوان کمپنی کو جڑوں سے ہلا دیتا ہے۔

سینکڑوں ہزاروں ”بکی“ بھی عرش سے فرش پر آ جاتے ہیں‘کمپنی ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ جاتی ہے‘ یہ لوگ بعد ازاں باغی پہلوانوں سے کیسے نبٹتے ہیں؟ یہ بھی ایک دل چسپ حقیقت‘ ایک دلچسپ تکنیک ہے‘ کمپنی پہلے اس پہلوان کو بتاتی ہے بھائی صاحب آپ اصل پہلوان یا سپرمین نہیں ہیں‘ آپ کو پہلوان ہم نے اسٹیبلش کیا ہے‘ ہم آپ کے لیے ہال بھرتے ہیں اور ہم ہی آپ کے لیے نعرے لگواتے ہیں چناں چہ آپ اگر پہلوان رہنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا ورنہ آپ کی جگہ نیا اداکار آ جائے گا‘

وہ پہلوان مان جائے تو ٹھیک ورنہ دوسری سٹیج پر یہ لوگ جینوئن مقابلے شروع کر دیتے ہیں‘ یہ نقلی پہلوان یا غلط فہمی کے شکار پہلوان کے سامنے اصلی پہلوان کھڑا کر دیتے ہیں اور اصل پہلوان غلط فہمی کے شکار پہلوان کی ہڈیوں کا چورا بنا دیتا ہے‘ غلط فہمی کے شکار پہلوان کو اگر عقل آ جائے تو ٹھیک ورنہ یہ بار بار پٹتا ہے اور پٹتے پٹتے اس کا پورا کیریئر ختم ہو جاتا ہے اور کمپنی اس کی جگہ نیا پہلوان لے آتی ہے یوں ”سوکالڈ سپرمین“ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے‘ اس کی داستان تک نہیں رہتی داستانوں میں۔

آپ اگر کسی دن تیسری دنیا کا مطالعہ کریں تو آپ کو ہم سمیت تھرڈ ورلڈ کے تمام ملکوں میں سیاسی ڈبلیو ڈبلیو ای نظر آئے گی‘آپ کو یہ نتیجہ اخذ کرتے دیر نہیں لگے گی ہمارے زیادہ تر پہلوان جعلی ہوتے ہیں‘ یہ باقاعدہ تخلیق کیے جاتے ہیں‘ ان کا پروفائل بنایا جاتا ہے‘ ان کو جعلی مقابلوں کے ذریعے اوپر لایا جاتا ہے اور پھر پورا سٹیج‘ پورا کھیل ان کے حوالے کر دیا جاتا ہے‘ یہ سٹیج پر کھڑے ہو کر دوسرے پہلوانوں سے لڑتے‘ انہیں لہو لہان کرتے‘ انہیں سٹیج پر پٹختے ہیں اور عوام تماشائیوں کی طرح تالیاں بجاتے رہتے ہیں۔

یہ جیے بھٹو‘ میاں دے نعرے وجن گے اورجب آئے گا عمران کے ترانے گاتے رہتے ہیں‘ یہ کھیل روانی کے ساتھ چلتا رہتا ہے اور آرگنائزرز اور کمپنی کے سرمائے‘ مارکیٹ ویلیو اور پروفائل میں اضافہ ہوتا رہتا ہے لیکن پھر اس کھیل میں ایک نیا موڑ آ جاتا ہے‘ یہ جعلی پہلوان جب عالمی لیڈروں سے ملتے ہیں‘ پوری دنیا کے لیڈر ان کی تعریف کرتے ہیں‘ یہ باہر نکلتے ہیں اور لاکھوں لوگ کھڑے ہو کر ان کے لیے تالیاں بجادیتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں‘ یہ اپنے قلم یا اشارے سے جس کو چاہتے ہیں یہ اسے پوسٹ کر دیتے ہیں۔

جس کو چاہتے ہیں ہٹا دیتے ہیں‘ جس کو چاہتے ہیں ایکسٹینشن دے دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں اس کو اٹھا کر جیل میں پھینک دیتے ہیں‘ پوری دنیا میں ان کے انٹرویوز ہوتے ہیں‘ ان کی فضول باتیں اور ادھار لفظ ”کوٹیشن“ بن کر سرکولیٹ ہونے لگتے ہیں تو ان کا ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے‘ یہ خود کو اصلی لیڈر سمجھنے لگتے ہیں اور یہ آرگنائزرز کی فائلیں بھی روک کر بیٹھ جاتے ہیں‘ یہ اپنی اتھارٹی منوانے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں اور یہ ووٹ کو باعزت سمجھ کر اس کی عزت کا مطالبہ بھی شروع کر دیتے ہیں۔

کمپنی کو دھچکا لگتا ہے اور ڈبلیو ڈبلیو ای باغی پہلوان کو سمجھانے کی کوشش شروع کر دیتی ہے‘ یہ اسے بتاتی ہے جناب آپ اصلی پہلوان نہیں ہیں‘ آپ سپرمین بھی نہیں ہیں‘ یہ ہم ہیں جنہوں نے آپ کو بنایا چناں چہ آپ کے لیے بہتر ہو گا آپ سنبھل جائیں اور سکرپٹ کے مطابق چلتے رہیں‘ خود بھی خوش رہیں اور ہمیں بھی خوش ہونے دیں‘ پہلوان اگر مان جائے تو ٹھیک ورنہ پھر اس کا مقابلہ اصلی پہلوانوں کے ساتھ کرا دیا جاتا ہے اور اصلی پہلوان اس کے ”کھنے“ سیک کر رکھ دیتے ہیں۔

یہ اگر اس دوران سنبھل جائے تو اللہ اللہ خیر سلا اور یہ اگر پھر بھی باز نہ آئے تو پھر یہ اصلی پہلوانوں سے مار کھاتا کھاتا سٹیج پر ”فلیٹ“ ہو جاتا ہے یا پھر چپ چاپ گم نامی کے اندھیرے میں غائب ہو جاتا ہے اور اس کی داستان تک نہیں رہتی داستانوں میں! آپ اگر سیاسی تاریخ کو بھی ڈبلیو ڈبلیو ای کی نظر سے پڑھیں گے تو آپ کو بھی حقائق اور تاریخ کے اتار چڑھاﺅ جانتے دیر نہیں لگے گی‘ آپ بھی آسانی سے جان لیں گے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کیوں ہر بار اپنی ”مدت ملازمت“ پوری نہیں کر پائے تھے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو دوبار اقتدار میں آئیں اور ان کے دونوں ادوار ادھورے رہ گئے‘کیوں؟ میاں نواز شریف تین بار وزیراعظم بنے اور تینوں ادوار کا اختتام افسوس ناک ہوا‘کیوں؟ آپ یہ جان لیں گے ملک کی تاریخ میں آصف علی زرداری کیوں واحد سویلین سیاست دان تھے جو آئے اور اپنی مدت پوری کر کے ایوان اقتدار سے نکل گئے! کیوں کہ یہ خود کہتے ہیں میں نے 2008ءکا الیکشن لڑنے سے پہلے فیصلہ کر لیا تھا میں تین اے کے ساتھ کسی صورت نہیں لڑوں گا چناں چہ یہ اللہ اور امریکا کے ساتھ ساتھ تیسرے اے کے ساتھ بھی نبھاتے چلے گئے جب کہ بے نظیر بھٹو ہوں یا پھر میاں نواز شریف یہ خم ٹھونک کر تینوں اے کے سامنے کھڑے ہو جاتے تھے لہٰذا یہ افسوس ناک انجام کا شکار ہوتے چلے گئے۔

آپ کو یاد ہو گا میں 2014ءمیں بار بار عرض کرتا تھا عمران خان کے دھرنے سے میاں نواز شریف کی حکومت نہیں جائے گی‘ کیوں؟ کیوں کہ مقصد حکومت بھجوانا نہیں ہے حکومت کو اس کی اوقات سمجھانا ہے چناں چہ حکومت بچ گئی‘ دھرنا فیل ہوگیا لیکن میاں نواز شریف وارننگ کو نہیں سمجھے اور پھر باقی کہانی آپ خود جانتے ہیں‘ مولانا کے دھرنے سے بھی اب یہی نکل رہا ہے‘ یہ دھرنا عمران خان کے نام پیغام ہے آپ پہلوان ہیں لیکن آپ اصلی پہلوان نہیں ہیں چناں چہ آپ بار بار یہ نہ کہیں ”میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا۔

کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ آپ صرف اپنے رنگ میں رہیں ‘ آپ چین ہو‘ ایران ہو‘ سعودی عرب ہو‘ ترکی ہو‘ یو اے ای ہو یا پھر امریکا ہو آپ ملکوں کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی بنانا بند کر دیں‘ ریاستوں کے تعلقات ریاستوں سے ہوتے ہیں اور کسی ریاست کا سربراہ کسی دوسری ریاست کے شہزادے سے جہاز لے کر کسی تیسرے ملک کا دورہ نہیں کرتا‘ ملک ادھار پٹرول اور ادھار رقم بھی ملکوں کو دیتے ہیں‘ یہ ڈیل بادشاہوں اور وزراءاعظم میں نہیں ہوتی اور ”کارکے“ جیسے ایشو بھی ملکوں کے ملکوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔

یہ دو وزیراعظم مل کر حل نہیں کرتے‘ دوسرا مولانا فضل الرحمن کے لیے پیغام ہے آپ اگر دو چار لاکھ لوگ نکال لیں تو اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں آپ حکومت بھی گرا لیں گے‘ حکومتیں دھرنوں اور مارچز سے نہیں گرا کرتیں اور اپوزیشن کو بھی یہ میسج دے دیا گیا ملک میں صرف آپ ہی آپشن نہیں ہیں‘ ریاست اگر سڑکیں کھول دے اور ٹیلی ویژن چینلز اگر تھوڑی سی کوریج دے دیں تو کوئی بھی پارٹی ملک کی سب سے بڑی عوامی اپوزیشن بن سکتی ہے چناں چہ یہ مارچ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے وارننگ تھا۔

یہ دونوں کو سمجھانے کی کوشش تھا اصل طاقت ریاست ہوتی ہے باقی سب اداکار ہوتے ہیں‘ یہ اپنا اپنا رول ادا کر کے چلے جاتے ہیں ‘یہ سکرپٹ اور ڈائریکشن کے مطابق چلتے رہیں تو ٹھیک ورنہ یہ آﺅٹ کر دیے جاتے ہیں‘ یہ کمپنی کی فلاسفی‘ یہ ڈبلیو ڈبلیو ای کی روایات ہیں‘ روایات کے مطابق چلیں گے تو بچیں گے ورنہ دوسری صورت میں اپنے آپ سے اپنا پتا پوچھتے رہ جائیں گے۔