9

دھڑکنوں کی زبان ………محمد جاوید حیات ………. ولایت کی شہزادی اور شہزادہ

میرے ابو آہ بھر کر کہتے تھے۔۔بیٹا!جب انگریز ہم پہ حکمران تھے تو انگلینڈ کی آبادی ایک کروڑ اسی لاکھ تھی اور برصغیر کی سینتیس کروڑ۔ہاں بیٹا!قومیں جب بکھرتی ہیں تو تعداد کامیابی کے لئے مداوا نہیں ہوتی۔۔تین سو تیرہ ایک ہزار کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے۔بس چٹان بننا ہوتا ہے۔۔بیٹا!جب اس وقت کی سپر پاؤر ایران جنگ قادیسیہ میں ہار گیا تو اس کے شاہنشاہ سے پوچھا گیا۔کہ تو تو سپر پاؤر تھا۔تو جنگ جیتا کرتا تھا۔تو عربوں کوبدو کہا کرتا تھا۔۔ابو شاہنشا ہ ایران کا جواب بتاتے ہوئے آکھیوں میں آنسو بھر لاتے۔۔شاہنشاہ نے کہا۔پہلے یہ بدو خود لڑتے تھے اب اپنے خدا کو لے کرلڑتے ہیں۔ان سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔۔ابو کہتے ہاں بیٹا!جب ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہوتا تھا تو ہماری تعداد کی کوئی بات نہ تھی بس ہم تین سو تیرا تھے۔۔لیکن ہم نے اپنے خدا کو چھوڑا۔۔ تعداد میں بڑھتے گئے مگر غیرت گھٹتی گئی۔ابو اقبال کا شعر لہک لہک کے سناتے۔۔
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے راہروئے منزل ہی نہیں
تربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیں
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
ہم نے بڑی جدو جہد کی۔۔ قربانیاں دی۔۔ آزادی حاصل کر لی۔مگر وہ غیرت پھر بھی ابھری نہیں۔اس مقام پہ نہیں آئے جہان پہ ایک آزاد قوم کھڑی ہوتی ہے۔اس کی آواز اس کی ہوتی ہے۔۔اس کی مرضی اور رائے اس کی ہوتی ہے۔اس کے مفادات اس کو عزیز ہوتے ہیں ہم اب بھی ان آزاد قوموں کی طرف دیکھتے ہیں۔ان کی شان میں قصیدہ گو ہیں۔ان کا احترام اپنی جگہ مگر احترام غلامی کی حدوں کو نہ چھوئے۔۔دوسروں کا احترام کرنا ہمارا اسلام ہمیں سیکھاتا ہے۔مگر غلامی سے نجات کا درس بھی اسلام دیتا ہے۔ولایت کی ملکہ آج بھی ننگے ہاتھ ہم سے ہاتھ نہیں ملاتی دستانا پہنتی ہے۔آج بھی ہمیں اپنی کالونی کہتی ہے۔ان کے نزدیک ہم آج بھی اسی حیثیت میں ہیں اُنہوں نے بر صغیر کی تقسیم کے وقت ہم سے کچھ اچھا نہیں کیا۔لیکن ہمارے زخم بھرنے چاہیے تھے۔جاپان کے وزیر اعظم سے کسی نے پوچھا تم امریکہ کے آگست انیس سو پنتالیس کے اٹیمی حملے کی یاد میں مردہ باد نہیں کرتے ہواس نے مسکرا کرکہا۔۔میں نے امریکہ کوشکست دی ہے اپنا بدلہ لے لیا ہے۔۔پوچھا گیا کیسا۔۔کہا کہ وائٹ ہاؤس جا کر وزیر اعظم کی میز پہ ٹیلی فون سیٹ کوچیک کرو اگر میرا بنایا ہوا ہے تو امریکہ ہار گیا ہے۔۔ہم میں وہ صلاحیت نہیں۔ہم اس کوہرا نہیں سکتے مگر ایسا بھی نہیں کہ دامن پسار دیں کہ ہم آزاد ہونے کے قابل نہیں۔شاباش ہوہمارے وزیراعظم کو کہ ان کی جنرل اسمبلی میں ان کے منہ پہ غیرت سے بات کی۔ ولایت کی شہزادی اور شہزادے آئے تو ہوائی اڈے پہ ان کا استقبال وزیرخارجہ نے کیا۔مگر مختلف علاقوں میں ان کا جو پروٹوکول تھا اس سے غلامی کی بوآتی تھی۔ان کویلغامار بنایا گیا تھا۔ولایت سے ان کا حفاظتی دستہ آنا ہی اچھا نہیں لگتا کیا ہمارے حفاظتی دستے ان کے معیار کے نہیں ہیں۔ان کی ٹائیمنگ اور ان کاشیڈول ہمارے ہاتھ میں ہونا چاہیے تھا مگر ان کے ہاتھ میں تھا۔۔وہ ملک دیکھنے اور جگہ دیکھنے آئے تھے ان کو کچھ دیکھنے ہی نہیں دیا گیا۔ان سے کسی کو ملنے ہی نہیں دیاگیا۔اگر وہ سٹیٹ گیسٹ تھے تب بھی ان کواتنے حبس میں نہیں رکھنا چاہیے تھا۔وہ ہمارے مہمان ہیں آقا نہیں مگر ہم خودایسا احساس دلاتے ہیں کہ تم ہمارے آقا ہو۔دیکھا گیا کہ ان کے نزدیک ہماری مسجدکا احترام تھا۔۔ہماری تہذیب کا احترام تھا وہ ہمارے لوگوں سے گھل ملناچاہتے تھے۔مگر ان کی حفاظتی دستوں نے ان کو یہ تاثر دلایا کہ ہمارا ملک پرامن نہیں ہے۔کیوں پرامن نہیں ہے اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے محافظوں کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ہمیں اس بات پہ یقین ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ان کو یہ تاثر دینا چاہیے کہ اپنی حفاظت بھی کرناجانتے ہیں اور دوسروں کی حفاظت بھی کر سکتے ہیں۔چاہیے تھا کہ وہ ہمارا گھر آنگن دیکھتے۔ہماری تہذیب و ثقافت دیکھتے۔ہمارا پولو،ہماری موسیقی،ہماری مسکراہٹیں،ہماری گلی کوچوں میں ہماری تڑپتی زندگی دیکھتے۔واپس جاکے ساری عمراپنی یادیں تا زہ کرتے۔چترال میں شہزادی کو چترالی کڑائی کی ہوئی روایتی ٹوپی پہنائی جاتی۔شہزادے کو پر لگے چترالی ٹوپی پہنائی جاتی۔۔بمبوریت میں ایسا کیا گیا تب ان کی مسکراہٹ فیس بک کی زینت بنی۔۔جب ہماری تشخص کی بات آتی ہے تب ہم دوسروں کی نقل کرتے ہیں۔اپنی اصلیت کی قدر نہ کرنا بہر حال ہماری بھول ہے۔۔