147

—- ” خوش آمدید عمران خان صاحب ” —–

. . . جناب عالی:ھم آپ کی تیسری دفعہ چترال تشریف آوری پر تمام تر

سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر دل کی اُتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید

کہتے ہیں کیونکہ بحیثیت قشقاری قوم کے یہ قشقاریوں کی روایت رہی ہے

کہ ہمارے گھر تشریف لانے والے ہر معزز مہماں کا استقبال اکھٹے کیا جاتا ہے.

آپ جس مقصد کے لیے آرہے ہیں یقیناً یہ وادی کے عوام کی ترقی کے لیے ایک

سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے بہ شرط کہ اس کے روح کے مطابق عملی جامہ

پہنایا جائے.آپ جس سرزمیں میں تشریف لارہے ہیں یقینا الیکشن 2013 کے

بعد اس جوش جذبے سے پہلی دفعہ استقبال کیا جارہا ہے.یہ سرزمیں وفا

خلوص محبت کے علاوہ امن وآشتی کے امیں لوگوں کی سرزمیں ہے جسکی

ماضی قریب کی تاریخ گواہ ہے.

70 کے دھائی میں ذولفقار علی بھٹو شہید پہلی دفعہ چترال اور قشقاریوں

سے محبت کا اظہار کیا تو آج بھی چترال کے عوام ان سے اپنی عقیدت کا

اظھار کررہے ہیں.ان کے بعد چترال کے لیے مرحوم جنرل ضیاء کے دور کے کیے

گیے بیش بہا کارنامے موجود ہیں جنکا قشقاری آج بھی معترف ہیں اس کا

ثبوت سابق وزیر شہزادہ محی الدین کی بار بار انتخاب ہے.

محترم خان صاحب:

ازین بعد بےنظیر بھٹو شہید نے اپنے مختصر مدت اقتدار میں چترال کو

بجلی فراھم کرکے چترال میں اپنی محبت کو مستحکم رکھی.

ہمارے قاید جناب میاں نوازشریف صاحب نے بھی اپنے دور میں قشقاریوں

کےلیے گران قدر خدمات انجام دیں مگر اس بار وہ کچھ کیا کہ عقل دنگ رہ

گئی .

جنرل مشرف کو میں نے کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا ہوں کیونکہ میں

کٹر مسلم لیگ ن ہوں مگر ہم اپنے قاید کی طرح اقتدار کی نہیں بلکہ اقدار کے

سیاست کے قایل ہیں اس لیے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں

ہورہا ہے کہ مشرف صاحب لواری ٹنل پر کام کا آغاز کرکے بھٹو شہید کے بعد

پہلی دفعہ چترال اور قشقاریوں کے دل میں جگہ بنالیا اور قشقاریوں نے

مصیبت میں کسی کا ساتھ نہ دینے کا محارہ غلط ثابت کرکے جنرل مشرف کے

دیرینہ کارکنوں کو بھاری ووٹ سے کامیاب کراکے دنیا کو حیران کردیا.

اس کے بعد پھر پی.پی. کا دور آیا مگر افسوس اس دور میں کوئی نمایاں کام

چترال میں نہ ہوسکا البتہ اس وقت کی صوبائی حکومت نیشنل پارٹی اور ان

کا راہنماء وزیراعلی نوابزادہ حیدر خان ہوتی نے چترال میں جو کام کیے وہ

گذشتہ ادوار سے دو گنا ذیادہ ہیں.ہم عوامی نیشنل پارٹی اور ان کے محترم

قایدیں کے شکرگذار ہیں.

. پھر 11 مئ 2013 کو صبح کا دروازہ کھلا اور ایک بار پھر افق سے آفتاب

نکلا جو سرزمیں پنجاب کے ستاروں کی تنک تابی کو لیے تیسری دفعہ قاید

محترم میاں نوازشریف تخت اسلام آباد پر جلوہ افروز ہوئے تو دور گران

خوابی کے بادل چھٹنا شروع ہوگئے.

آپ سے پہلے ہمارے وزیراعظم و قاید محترم میان نوازشریف صاحب

سیلاب,زلزلہ کے تباھیوں میں جس طرح ہمارے زخموں پر پاہا رکھا اور ازیں

بعد تیسری دفعہ چترال کا دیرینہ مسلہ لواری ٹنل کا افتتاح اور عام ٹریفک کے

لیے کھول کر وادی کے عوام کے ساتھ اپنی محبت کا مثالی ثبوت دے دیا ہے.

ھم بحیثیت قشقاری ان کے احسانات کو کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے

کیونکہ پاکستان میں سی.پیک میٹرو اسکیم و ہمچوں کے قسم کے مہنگے میگا

پراجیکٹ میں پورے پاکستان میں چترال چوتھا علاقہ ہے کہ جہاں قاید

محترم جناب میاں نوازشریف نے 70 ارب سے زیادہ رقم قومی خزانے سے لگایا

ہے. امدادی رقومات و قرضہ اسکیم,طلباء کو فیس کی واپسی بشمول

ٹیکنیکل اسکل ڈیولپمنٹ پراجیکٹ ان کے علاوہ ہیں. ھم قشقاری قوم سابق

وزیراعظم کے شکرگذار اور دعا گو ہیں کہ منافقیں کے لگایے ہویے اس آگ سے

اللہ ان کو اور ان کے خاندان کی حفاظت فرمائے اور ان کی بیمار اہلیہ کو

صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے…آمیں…

. محترم خان صاحب! ھمیں آپ کی طرز سیاست سے لاکھ معقولانہ اختلاف

سہی, ھمیں آپ کی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے ھزار بار مدللانہ

مایوسی سہی, ھمیں آپ کے نظریات پر چارسال سے آپ ہی کی حکومت کی

سودابازی سے قطع نظر ! بے شک اول الذکر خدمات کے مقابلے میں موخرالذکر

اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے یا آپ ہی کی بنیادی تبدیلی کے مکان بہ

اسمِ بلدیاتی نظام کے درودیوار کی دراڑوں سے ہٹ کے,ہم امید کرتے ہیں کہ آپ

نہ صرف اپرچترال کے ضلع کا عملی اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم

نوازشریف صاحب کے اعلان کردہ وفاقی ہسپتال کے لیے زمیں ایکوایر کرکے

بمطابق ھدایاتِ وزیراعظم ,فنڈ مختص کرنے کا اعلان بھی کرینگے… ھم آخر

میں آپ کا ,وزیراعلی صاحب و دیگر مہمانان گرامی بشمول تحریک انصاف کے

کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں… نوازش..

Facebook Comments