189

قیامت کا امہ

دھڑک وں کی زباں
تحریر ؛۔ محمد جاوید حیات

 کاش میرے پاس الفا ظ ہوتے ۔۔کاش میرے الفاظ میں ات ی طاقت ہوتی کہ اس کی محبت کے سم در کو سمیٹ سکتے ۔۔کاش میرے الفاظ میں ات ی خوشبو ہوتی کہ اس کے وجود کو خوشبو سے بھر دیتے ۔۔کا ش میرے الفاظ میں ات ی روش ی ہوتی کہ اس کے رُخ ا ور کو چمکا دیتے ۔۔کاش میرے الفاظ کی ات ی خوبصورت آواز ہوتی کہ صبح وشام اس کے حس کے گیت گاتا ۔۔کا ش میرے الفاظ تتلیاں ہوتے ۔۔تو پر پھیلا کے اس کے گلاب چہرے کا طواف کر تے ۔۔کاش میرے الفاظ خواب ہو تے تو اس کی ی د میں آتے ۔۔کاش میرے الفاظ ی د ہوتے تو اس کی پیاری آ کھوں میں آرام کر ے آتے ۔۔کاش میرے الفاظ خوبصورت موسم ہوتے ۔۔اس کے گاؤں میں آتے اس کو مجھ سے پیار ہوتا ۔۔کاش میرے الفاظ اس کے الفاظ ہوتے ۔۔وہ بہت خوش ہوتا کہ اس ے خط ہیں لکھا بلکہ الفاظ کا موتی پرویا ہے ۔۔اس ے مجھے خط لکھا ۔۔اپ ے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ۔۔اس کے پیارے دل ے یہ الفاظ سوچا ۔۔ اس کی پیاری زبا سے یہ ادا ہوئے ۔۔اور اسکی پیاری ا گلیوں ے وہ خوش قسمت قلم پکڑی ہو گی ۔۔اور اس کی پاکیزہ محبت الفاظ ب کر کاغذ پہ بکھر گئی ہوگی ۔۔اس ے لکھا ہے کہ اس کو مجھ سے محبت ہے ۔۔اس کو میری محبت کی ضرورت ہے ۔۔مجھے اس کے بھول پ پہ بہت پیار آیا ۔۔میرا جی بھر آیا ۔اگر یہ دل کال کے دی ے کی چیز ہوتی تو میں یہ کال کے اس کے سام ے رکھتا اور کہتا ۔۔۔یہ لو میرے چا د ۔۔ دل تمہارے سام ے رکھا ۔۔یہ جا اس کے کام آتی تو ہزار بار قر با کر دیتا ۔۔میں اس کو کیسے یقی دلاؤں کہ مجھے اس سے اس سے بھی زیادہ محبت ہے ۔۔وہ میری روح میں سمایا ہوا ہے مری روح کی تازگی اس سے وابستہ ہے ۔۔وہ سحاب ب کر میری ب جر آرزووں پر برستا ہے ۔۔وہ خوشبو ب کر میرے مشام جا کو معطر کرتا ہے ۔۔وہ پھول ب کر میری حیات کے چم کو کھارتا ہے ۔وہ چا د ب کر میرے آکاش کو خوبصورت ب اتا ہے ۔۔وہ یاد ب کر میرے ماضی کو صورت بخشتا ہے ۔۔وہ اُمید ب کر مجھے جی ا سیکھاتا ہے۔۔وہ میرے د وں کی اُلٹ پھیر ہے ۔۔وہ میری ساعتوں کی خوشگواری کا ضام ہے ۔۔وہ میری صبح کی ٹھ ڈک ہے ۔۔وہ میری شام کا سہا ا پ ہے ۔۔وہ میری راتوں کی خاموشی ہے ۔۔وہ مرے د وں کی ہل چل ہے ۔۔وہ میری ز دگی ہے ۔۔وہ میری د یا ہے ۔۔وہ میرے لئے کھلی کاء ات ہے ۔۔اس ے اپ ی چھوٹی سی پاکیزہ محبت الفاظ ب ا کر کاغذ میں محفوظ کیا ہے ۔۔اور لا کے میرے سام ے رکھا ہے ۔۔میں ا الفاظ کی قیمت لگا تا ہوں تو ہر ہر لفظ میرے لئے میری جا سے بھی زیادہ قیمتی ہے ۔۔میں ا کی قیمت کیسے ادا کروں ۔۔میں ا کو اپ ی محبت کے ساتھ تولتا ہوں تو ہر ہر لفظ میری پوری محبت سے بھاری ہے ۔۔اور وہ بہت سارے الفاظ ہیں ۔۔اب میں اس کو یقی دلا ے کے لئے اپ ے الفاظ پرکھتا ہوں تو کوئی لفظ اس کو یقی دلا ے کے لئے م اسب مجھے ہیں ملتا ۔ میں کیا کروں۔۔ اس کو اپ ی جا کہوں ۔۔تو جا آ ی جا ی ہے اس کا اعتبار ہی کیا ۔۔میں اس کودل کہوں تو دل دھڑکتا ہے ۔۔دھڑک وں کا کیا رُک بھی سکتی ہیں ۔۔۔اس کو اپ ی روح کہوں ۔۔روح بد سے کسی بھی وقت بے وفائی کر سکتا ہے ۔۔ز دگی کہوں تو ز دگی کا ٹوں کا سیج ہے ۔۔میرے پاس الفاظ کہاں ہیں ۔۔ ہیں ہیں ۔۔اس کی محبت کے اظہار کے جواب کے لئے میرے پاس الفاظ ہیں ہیں ۔۔اس ے لکھا ہے کہ اس کو میری محبت کی ضرورت ہے اس کو کیسے سمجھاؤں کہ جت ی اس کی محبت کو مجھے ضرورت ہے اس کو میری محبت کی ات ی ضرورت کہاں ہے ۔۔وہ میری روح ہے ۔۔روح بد سے تو جدا ہیں ہوسکتی ۔۔وہ کہتا ہے کہ وہ مجھے خوش دیکھ کر خوش رہتا ہے اور افسردہ دیکھ کر آفسردہ ہوتا ہے ۔۔میں کوشش کروں گا کہ کبھی اسکے سام ے افسردہ ہ ہو جاؤں ۔۔خوش رہ ے کا بہا ا کروں ۔۔پھر اس کے سام ے سے ہٹوں تو رورو کر دل کا بوجھ ہلکا کروں ۔۔پھر دل کی تختی پہ اس کا ام آ سووں سے لکھ کر اس کا طواف کروں ۔۔اس ے لکھا ہے کہ اس کو مجھ سے محبت ہے۔۔۔ اس کو محبت کی آگ میں جل ے کا تجربہ ہیں اس لئے وہ مجھے اپ ی محبت کی شدد کا یقی کس طرح دلائے ۔۔اس کا دل صرف دھڑکا ہوگا ۔ایک بار یا ایک سے زیادہ بار ۔۔اس کے دل کے ہزار ٹکڑے کہاں ہوئے ہو گے۔۔وہ یہ برداشت ہیں کر سکتا ۔۔اس ے مجھے ایک محبت امہ لکھا ہے ۔۔اور مجھے امتحا میں ڈالا ہے کہ میں اس کے محبت امے کا جواب لکھ سکوں گا کہ ہیں ۔۔۔میں ہیں لکھ سکوں گا ۔۔اگر مجھے الفاظ ملیں گے بھی تو وہ خوشبو کہاں سے لاؤں گا جو اس کے الفاظ میں ہیں ۔۔وہ بھول پ کہاں سے لاؤں جو الفاظ ب کے کاغذ پہ کھرے ہوئے ہیں ۔۔یہ چ د الفاظ میری ز دگی کے سوغات ہیں ۔۔میں سوچتا ہوں ۔۔یہ دولت کہاں چھپا کے رکھوں ۔۔اس کا خط ۔۔اس کا محبت امہ ۔۔اس ے اس لکھ ے کے سمے کو ’’ یادگار لمحہ ‘‘ کہا ہے ۔۔میں اس کے یادگار لمحوں کوکہاں محفوظ کرکے رکھوں ۔۔یہ ساری کاء ات بھی مجھے حوالہ کیا جائے تو اس کو رکھ ے کے لئے میرے پاس جگہ ہ ہوگی ۔۔میں ڈرتا ہو ں کہ کوئی اس کو دیکھ ہ لے پڑھ ہ لے۔۔میں اس کو پوری کاء ات کی ظروں سے چھپا کر کہاں لے جاوءں ۔۔میں چاہتا ہوں کہ اپ ا سی ہ چیر کر اس محبت امے کو اس میں چھپا کے رکھوں جس طرح چاہتا ہوں کہ وہ جو میری روح میں سمائی ہوئی ہے کبھی کسی کی ظروں کے سام ے ہ آجائے ۔۔مگر یہ میرا خواب ہے ۔۔وہ سب کی ظروں کے سام ے ہوتا ہے ۔۔ساری گاہیں اس کا طواف کرتی ہیں ۔۔میں جل کر راکھ ہو جاتاہوں ۔۔میں اس کو کسی کی آ کھوں سے ہیں چھپا سکتا ۔۔البتہ اس کا یہ محبت امہ چھپا ے کی فکر میں ہوں ۔۔اللہ اس کی پاکیزہ محبت کو شاداب رکھے ۔۔۔۔۔

Facebook Comments