95

موت کے خوف سے 3 سال تک درخت پر زندگی گزارنے والا شخص

 

فلپائین (ویب ڈیسک)فلپائن میں 47 سالہ گلبرٹ سان چیز نامی شخص نے قتل ہونے کے خوف سے زندگی کے 3 برس 60 فٹ اونچے ناریل کے درخت پر گزار دیئے۔گلبرٹ فلپائن کے علاقے لاپاز کے رہائشی ہیں جہاں 3 سال قبل کچھ لوگوں کی لڑائی ہوئی تھی اس دوران وہ نامعلوم شخص کی گولی کا نشانہ بن گئے تھے۔
اس حادثے کے بعد گلبرٹ کو ایسا خوف طاری ہوا کہ انہوں نے اپنی جان کی حفاظت کے لئے انوکھا راستہ اختیار کرلیا۔ان کی والدہ سمیت بھائی اور محلے والوں نے کافی حد تک سمجھایا اور درخت سے نیچے اترنے کا کہا لیکن گلبرٹ نے کسی کی نہیں مانی۔3 سال تک ان کی والدہ نے ان کا کھانا پینا، کپڑے اور دیگر ضروریاتی اشیاء رسی سے دیتی رہیں جس کے ذریعے گلبرٹ 60 فٹ اونچے ناریل کے درخت پر جا پہنچے تھے۔ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس حادثہ کے بعد ان کے دماغ میں یہ خوف بیٹھ گیا تھا کہ کوئی انہیں مار ڈالے گا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی درخت پر ہی گزارنے کا سوچ لیا تھا۔ یہاں تک کہ جب ان سے کہا جاتا کہ کم از کم نیچے آکر نہالو تب بھی یہ بضد رہے۔گزشتہ ماہ علاقے کے ایک فرد نے گلبرٹ پر بلاگ لکھا جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا تاہم اس پر ایک نیوز ایجنسی کی جانب سے فلم بنانے والی ٹیم کو بھیجا گیا۔فلم سازوں نے علاقے کی لوکل گورنمنٹ سے اجازت طلب کی اور 11 اکتوبر کو لاپاز پہنچ گئے۔فلم کی ٹیم نے گلبرٹ کے گھروالوں سے رابطہ کیا اور اپنے ساتھ ایک ماہر نفسیات کو بھی لے کر آئے۔سب سے پہلے گلبرٹ کو مائل کیا کہ وہ اپنے ذہن سے اس خوف کو دور کردیں کہ انہیں کوئی مار ڈالے گا جبکہ یہ یقین دہانی کروائی کہ یہ علاقہ اب ہر لحاظ سے محفوظ کردیا گیا ہے۔خوب اسرار کے باوجود بھی گلبرٹ ٹس سے مس نا ہوئے آخر کار انہیں یہ دھمکی دی گئی کہ اگر وہ نیچے نہیں آئیں گے تو درخت کاٹ دیا جائے گا تاہم پھر زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔دھمکی ان پر خوب اثر کی اور گلبرٹ نے اپنا فیصلہ بدل لیا ۔نیچے آنے کے بعد گلبرٹ کے جسم پر کافی زخم کے نشان اور زخم پائے گئے ۔گلبرٹ کو فوری طور پر علاج کے لئے اسپتال لے جایا جا چکا ہے جہاں ڈاکٹرز نے انہیں نفسیاتی مریض قرار دیا ہے۔علاقے والے اور دیگر لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے ان کے علاج کے لئے عطیات بھی فراہم کر رہے ہیں

Facebook Comments