107

گولین بجلی گھر کی کہانی کچھ اپنوں اور کچھ میری اپنی زبانی

ڈاکٹر خلیل جغورو
کچھ سال پہلےایس-ار-ایس-پی نےاین- جی- او کےطریقہ کار سے ہٹ کر بمبوریت کے گاؤں شاید کندیسارمیں ایک بجلی گھر بنانے کا تجربہ کیا.اس پروجیکٹ میں گاوں کے لوگوں کے ساتھ یہ معاہدہ طے ہوا کہ بجلی گھر سے پیدا شدہ آمدنی کا حساب گاؤں کے لوگوں کی بجاےایس-ار-ایس- پیخود کیا کرے گی اور رقم ایس-ار-ایس- پی کے اکاونٹ میں رہے گی اور یہ آمدنی بجلی گھر ملازمیں اور مرمت کے کاموں پر خرچ کی جئے گی. عموم ایسا نہیں کیا جاتا ،این- جی- اوچونکہ ہمیشہ کیلئے نہیں رہتی ان کے کچھ اغراض مقاصد ہوتے ہیں، وو پورے ہونے پراین- جی- او بھی بند ہوجاتی ہے اور گاؤں کے پروجیکٹ کو نسلوں تک چلنے کیلئے بنایا جاتا ہے. یہ سن کر اپ کے ذہنوں میں کی سوال اٹھ چکے ھوں گے ان کا جواب میں بعد میں دوں گا – بھرحالاین- جی- او کبھی مستقل بنیادوں پر وجود میں نہیں اتی بلعموم تنظیم کی سطح پر ہی لوگوں کو اکاوونٹنگ، آڈیٹنگ میں تربیت دی جاتی ہے، اور یہ کام وہی لوگ کرتے رہتے ہیں جواپر چترال میں اب بھی موجود ہے. اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ لوئر چترال میں مظبوط تنظیم سازی قدرے مشکل ہے شاید اس مسلے کا یہ حل تلاش کیا گیا ہولیکن یہ ہر گز پائیداراوردیرپا طریقہ کار ہرگز ہرگز نہیں ہے. چنکہ یہ تجروبہ ایس-ار-ایس- پی کے وجود تک کامیابہےاس تجربے کو بنیاد بناکر یہ سوچا گیا کہ چترال ٹاؤن، ایون، بونی، ریچ وغیرہ میں بھی اسی طرز پر نسبتاں بڑے بجلی گھر بناے جایں. سب سے پہلے چترال ٹاؤن کو لیا گیا. مذکورہ بجلی گھر کو پہلے چترال گول میں بنانے کا سوچا گیا لیکن کنزرویش والوں نے ایسا کرنے کو اجازت نہیں دی. پھر جغور گول میں پروگرام بنا تو مغفرت شاہ صاحب جو پہلے سےوہاں چھوٹا بجلی گھر بنانےلگا تھاان کے ساتھ ڈیل نہیں ہوسکی. آخر کار گولیں برموغ کے مقام پر بجلی گھر بنانا طےہوا–ٹاؤنکی سطح پرکوئ تنظیم سازی نہیں کی گئی لیکن پاورکمیٹی والوں کو عوامی نمایندہ بناکر یہ کام شروغ کیا گیاجس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے- گراؤنڈ ورک کرکے پروجیکٹ یوروپی یونین کے سامنے رکھا گیا تو انہوں نے پروجیکٹ کی منظوری دے ڈالی- پاور کمیٹی،ایس-ار-ایس- پی اور یوروپییونین کے درمیان جو معاہدہ طے ہوا اس کی چند موٹے نکات درج ذیل ہیں

چونکہ پروجیکٹ قدرےبڑا تھا اسلئے اسے عوام کی بجاے ٹھیکیدار کو دیا جیۓ گا لیکن پاور کمیٹی اور ایس-ار-ایس- پی کام کی کڑی نگرانی کریں گے  کوئی کام پاور کمیٹی اور ایس-ار-ایس- پی سے اجازت لیے بغیر نہیں ہو گی بجلی گھر تیار ہونے پر اس کو جوٹی لشٹ میں گرڈ اسٹشن کے ساتھ جوڑ دیا جاے گا پاور ہاؤس سےلیکر جوٹی لشٹ تک ہر کام بشمول مرمت ایس-ار ایس- پی اور پاور کمیٹی کے مشورے سے ہوگا- بجلی گھر سے گرڈ تک جتنے بھی ملازم رکھے جائیں گے ان کا انتخاب پاور کمیٹی اورایس-ار-ایس- پی باہمی مشورے سے رکھیں گے گرڈ میں ایک میٹر لگے گا، اور جتنی بجلی مذکورہ بجلی گھر سے واپڈا یا پیئڑوکے لائن میں منتقل ہوگا، فی یونٹ کے حساب سے وہ رقم واپڈا کے نرخ سے کم کرکے واپڈا سے وصول کیا جئے گا، اور رقم کا حساب کتاب ایس-ار-ایس- پی اور پاور کمیٹی ملکر رکھیں گے اور اس کا خرچ بھی دونوں پارٹی ملکر باہمی فیصلے سے کریں گے. لیکن یہ کہیں بھی نہیں لکھا گیا کہ اس رقم کا آڈٹ کون کرے گا بجلی صرف اور صرف چترال ٹاؤن کو ہی دی جئے گی، ہاں پیداوار ٹاؤن کی ضرورت سے زیادہ ہونے کی صورت میں کسی زیادہ حقدار بستی کوبجلی دی جئے گی. اس بات کا ایک بڑا ثبوت افتتاحی بورڈ ہے جس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے بجلی گھر براے چترال ٹاؤن – یہ نہیں لکھا گیا کہ چترال ٹاؤن اور ملحقہ دیہات.

چنکه ہم چترال کے لوگ ہر اچھی بری بات کو بہت جلد بھولنے میں شہرت رکھتے ہیں ورنہ یہ سب باتیںکامرس کالج کے گراؤنڈ میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں ہوئی ہیں جس کا ثبوت دی گئی تصاویر سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے؟ ہم جب لواری ٹنل سے پہلے پشاورمیں اس کے بعد چقںسرائی کے سفر کو اگر بھول سکتے ہیں تو یہ تو چھوٹی موٹی باتیں ہیں- ایک اور بات میں اپ سب کے گوش گزار کرتا چلوں، ہر این- جی- اوکی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ برے وقت کیلئے اینڈومنٹ فنڈ اپنے چھپے اکاونٹ میں جمغ کرے. وہ اسلئے کہ جب این- جی- اوکو ڈونر نہ ملیںتو وہ یہ رقم خرچ کرکے ڈونر ملنے تک خود کو زندہ رکھ سکے. یہ رقم کسی بھی صورت عوامی کھاتے سے بلواسطہ یا بلاواسطہ جمغ کرنا جرم عظیم ہے، مجھے شک ہے. یاد رکھنا میں نے شک لفظ استغمال کیا ہے. کہ کہیں اس نئے طریقے سے ایس-ار-ایس- پی اپنے لیے کچھ اینڈومنٹ جمغ تو نہیں کر رہی؟ اس شک کی وجہ تصویر میں دی گئی ایجنڈے کا ایک صفہ ہے جو انگریزی زبان میں تحریر کی گئی ہے اور مجھے پاور کمیٹی میں اتنی مشکل انگریزی سمجھنے والا کوئی نظر نہیں ارہا ہے.- کیا اس انگریزی تحریر کو پاور کمیٹی کو سمجھایا گیا تھا ؟ کیا اس پر ان کے دستخط موجود ہیں؟ کیا اس ایجنڈے میں وہی باتیں لکھی گئی ہیں جو عوام کے سامنے کہیں گئی تھیں؟؟ مجھے ایجنڈے میں کچھ مختلف باتیں بھی دکھتی ہیں. پاور کمیٹی کو اگر سمجھایا گیا تھا توانہوں نےاسپردستخط کیوں کیں؟ یا یہ کہ پاور کمیٹی کو اس انگریزی ایجنڈے کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں؟ یاد رہے یوروپی یونین سے فنڈ چترال ٹاؤن کے نام پر لی گئی ہیں، اسلئے اس بارے میں پوچھ گچھ ٹاؤن کے ہر فرد کا حق ہے، کوئی بھی کسی کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا اگر باتیں چھپائیں گئی تو عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جاسکتا ہے. اس کا خرچہ برداشت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے. میں منور شاہ کے علاج کیلئے اگر چار پانج لاکھ جمغ کرسکتا ھوں تو یہ تو عوامی معاملہ ہے اس میں پیسے لگا کر لوگوں کو مزہ آے گا  بیچارے فرنگی تو سب کو اپنی طرح سمجھ کے پیسے آسانی سے دے دیتے ہیں لیکن اگر اس طرح کے لٹرم پٹرم کا ان کو پتہ چل گیا تویاد رہے،انہیں کھال الٹا ادھڑنا بھی بہت خوب اتا ہےیہ سارا کام کسی اخبار نویس کو تھوڑی تحقیق کرکےعوام کے سامنے لانا چاہیے تھا. لیکن ایک رپورٹر کی رپورٹ شاید اس سے بہتر نہ ہو لیکی میں نے تحقیق ضرور کی ہے، اور کچھ میں نے این- جی- اومیں سترہ سال کےمظبوط تجربےکی بنیاد پر لکھا ہے. باقی اب بھی اپنی طرف سے ان باتوں کی تصدیق کرسکتے ہیں

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں