24

داد بیداد….کا لا ش کے تحفظ کا منصو بہ….ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

خیبر پختونخوا کی حکومت نے بین الاقوامی شہرت یا فتہ قبیلہ کا لا ش کے تحفظ اور عوا م کی مادی و معا شی ترقی کے لئے کا لا ش ویلیز ڈیو لپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کی منظوری دی ہے جسے عالمی نشر یاتی اداروں نے بیحد سراہا ہے یو نیور سٹیوں کے متعلقہ شعبوں اور تر قیا تی اداروں میں اس پر بحث ہو رہی ہے کہ کا لا ش قبیلے کی منفر د تہذیب و ثقا فت کو کس طرح خطرات در پیش ہیں؟ ان خطرات کی روک تھا م کس طرح ہو سکتی ہے؟ 50سال پہلے ڈاکٹر نوید راحت جعفری نے اس مو ضوع پر جا مع رپورٹ مر تب کی تھی بھٹو کی حکومت یو نیسکو کے ساتھ مل کر کا لا ش ویلیز کو عالمی ورثہ قرار دینا چاہتی تھی اس اثنا میں جین لا ودے کی کتاب بھی آگئی جس میں کا لاش مذہب اور ثقا فت کو پہلی بار جا مع صورت میں پیش کیا گیا اور اس کی معدو میت کے خطرے کا اظہار کیا گیا اس مو ضوع پر شائع ہونے والی 57کتا بوں میں لا ودے کی تصنیف ”دی کا لاش سولس ٹس“ سب سے اہم دستا ویز ہے اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ کا لا ش کی آبادی سال بہ سال کم ہورہی ہے کا لاش کو مذہبی اقلیت سے زیا دہ ثقا فتی اکا ئی اور نسلی اکا ئی کی حیثیت سے عالمی شہرت حا صل ہے کا لاش کی ثقا فت اور نسلی تاریخ پر جتنی تحقیق ہوئی ہے کسی اورقبیلے پر اتنی تحقیق نہیں ہوئی اس پہلو پہ سندھ کے آذر آیار کے ساتھ چترال کے رحمت کریم بیگ اور راقم نے کا فی کام کیا ہے نئے منصو بے میں تینوں پہلو وں کو سامنے رکھ کر کام کر نا ضروری ہے کا لاش تہذیب اور ثقا فت کو تحفظ دینے کے لئے چند بنیا دی نکا ت پر غور کرنا ضروری ہے پہلا نکتہ یہ ہے کہ گذشتہ نصف صدی کے اندر پا کستان کی اہم دستا ویز مردم شما ری رپورٹ میں کا لا ش کی آبادی اور ان کی زبان کو نہیں دکھا یا گیا ضلع چترال کی یو نین کونسل ایون میں عیسائی آبادی دکھائی گئی ہے کا لا ش آبادی نہیں دکھا ئی گئی کا لا ش آبادی کے اعدادو شما ر وغیرہ وغیرہ کے خا نے میں ڈال دیئے گئے ہیں 2017ء کی مر دم شما ری سے پہلے کا لا ش قبیلے کے نما ئندوں نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کر کے اپنا نام مردم شماری میں ڈالنے کے لئے عدا لتی حکم حا صل کیا لیکن محکمہ شما ریات نے عدالتی حکم کو ماننے سے انکا ر کیا یو نیسکو حکام کہتے ہیں کہ جب تک پا کستان کی مر دم شماری رپورٹ میں کا لا ش قبیلے کا نام نہیں آئے گا فنی اور تکنیکی بنیا دوں پر کا لا ش کلچر کو عالمی ورثہ قرار دینے پر کام نہیں ہو سکیگا شکر کا مقام ہے کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نا د را) نے 2018ء میں شنا ختی کارڈ کے اندر کا لا ش کے اندراج کی منظوری دی اس سے پہلے کا لا ش کا نام شنا ختی کارڈ میں بھی نہیں آتا تھا دوسرا ضرری نکتہ یہ ہے کہ گذرے ہوئے 200سالوں میں کا لاش وادیوں کے نام اور کا لاش دیہات کے نام تبدیل کئے جا چکے ہیں یو نیسکو کا کنونشن اس تبدیلی کی اجا زت نہیں دیتا 1876ء میں کا لاش وادی کا نام کا لاش گوم تھا اب یہ نام معدوم ہو چکا ہے 1876ء میں کا لاش وادی کے بڑے گاؤں کا نام موموریت (Mummuret) تھا جس کو بمبوریت بنا یا گیا ہے انیسویں صدی میں کا لاش کی ایک اور وادی کا نام روکمو (Rukmu) تھا جسے اب رومبور کہا جا تا ہے 200سال پہلے بریر کا نام بھی ایسا نہیں تھا اس طرح 18چھوٹے دیہا ت کے نام تبدیل ہو چکے ہیں تیسرا نکتہ یہ ہے کہ 200سال پہلے کا لاش مردوں اور عورتوں کے نام کا لا شا زبان میں رکھے جا تے تھے زبان کو کا لاشامون (Kalashamun) کہا جا تا تھا کالاش کے مذہبی پیشوا کانام گڈیراک (Gaderak) تھا جسے اب قاضی کہا جا تا ہے بچوں کے نام پھو لوں، پرندوں اور ستاروں کے ناموں پر رکھے جا تے تھے جیسے بڑاوشٹ،بچھارا(Bachara) اور ٹینگڑ وغیرہ اب کا لاش بچوں کے نام عربی میں رکھے جا تے ہیں جیسے کریم اللہ، ذبیح اللہ،محمد علی، قائد اعظم، فرزانہ، جویریہ وغیرہ یو نیسکو کے ما ہرین کہتے ہیں کہ ثقا فت کی مو ت ناموں کی تبدیلی سے واقع ہوتی ہے چوتھا اہم نکتہ یہ ہے کہ کا لاش مذہب کی کوئی دستاویز یا کتاب اب تک مر تب نہیں ہوئی مذہبی عقائد کو گیتوں اور کہا نیوں کی صورت میں اب تک سینہ بسینہ محفوظ رکھا گیا ہے پا نچواں ضرری نکتہ یہ ہے کہ کا لاش کے میڑیل کلچر سے زیا دہ اہم نان میٹیریل کلچر ہے اس کا تحفظ کسی بھی منصو بے کی تر جیحات میں اولین ترجیح ہونی چاہئیے ان 5نکا ت کا احا طہ کر نے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کا لاش کلچر کے تحفظ کا جو منصو بہ ہے اس کے فوائد کا لاش لو گوں کو ملنے چا ہئیں ما ضی میں محکمہ ثقا فت نے جو منصو بے منظور کئے وہ پشاور ہی میں ختم ہوئے اگر ایک منصو بے کا ہیڈ آفس پشاور میں ہو منصوبے کی 8گا ڑیاں وہاں کھڑی ہوں 38ملا زمین وہاں بیٹھے ہوں تو کا لاش کو کیا فائدہ ہو گا؟ کا لاش ویلیز ڈیو لپمنٹ اتھارٹی کا ہیڈ آفس بمبوریت میں ہو نا چاہئیے اس کی ملا زمتیں کا لاش عوام کو ملنی چاہئیں پھر دیگر فوائد بھی کا لا ش عوام کو ملینگے پشاور میں قائم دفتر سے کا لا ش عوام کو ایک پا ئی کا فائدہ نہیں ہو گا۔

Facebook Comments