چین ،سعودی عرب،قطر اور اب اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی اربوں ڈالرز کا قرض،حکومت ہر طرف سے قرضے لینے میں مصروف،پاکستان کے دیوالیہ ہونے کاخدشہ، ماہرین نے خوفناک انتباہ کردیا | Awaz-e-Chitral

Home / بچوں کی آواز / چین ،سعودی عرب،قطر اور اب اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی اربوں ڈالرز کا قرض،حکومت ہر طرف سے قرضے لینے میں مصروف،پاکستان کے دیوالیہ ہونے کاخدشہ، ماہرین نے خوفناک انتباہ کردیا

چین ،سعودی عرب،قطر اور اب اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی اربوں ڈالرز کا قرض،حکومت ہر طرف سے قرضے لینے میں مصروف،پاکستان کے دیوالیہ ہونے کاخدشہ، ماہرین نے خوفناک انتباہ کردیا

اسلام آباد (آوازچترال رپورٹ )چین ،سعودی عرب،قطر اور اب اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی اربوں ڈالرز کا قرض،حکومت ہر طرف سے قرضے لینے میں مصروف،پاکستان کے دیوالیہ ہونے کاخدشہ، ماہرین نے خوفناک انتباہ کردیا، تفصیلات کے مطابق ترجمان وزارت خزانہ نے کہاہے کہ پاکستان کو ادھار تیل ملنے میں ایک اور بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ترجمان کے مطابق پاکستان کو اسلامی ترقیاتی بینک سے قرض پر 4.5 ارب ڈالر کا تیل ملے گا اور یہ سہولت 3 سال کیلئے ہوگی ، آئی ڈی پی ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالر کا تیل فراہم کریگا۔ترجمان نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 10 کروڑ ڈالر کا تیل فراہم ہو چکا ہے اور دوسرے مرحلے میں 27 کروڑ کا ادھار تیل ملے گا۔ترجمان کے مطابق اسلامی ترقیاتی بینک سے ایل این جی بھی ادھار لینے پر بات چیت جاری ہے۔ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق سعودی عرب سے ادھار تیل کے معاملات طے پاگئے ہیں، فروری کے وسط سے سعودی عرب سے ادھار تیل مل سکے گا۔ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق متحدہ عرب امارات سے بھی ادھار تیل پر بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔دوسری جانب معاشی ماہرین نے حکومت کی جانب سے چین، سعودی عرب، قطر اور اب اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی اربوں ڈالرز کے قرض پر گہری تشویش کا اظہا ر کیا ہے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف تین سال کی مدت کے معاہدے کئے گئے ہیں جن میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق تین ممالک سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور قطر سے تقریباً بارہ بارہ ارب ڈالرز کے قرضو ں کے پیکج لئے گئے ہیں یعنی 36ارب ڈالرز قرض کے معاہدے ہورہے ہیں جبکہ چین سے بھی چار سے پانچ ارب ڈالر قرض لیاجائے گا اور اب اس کے بعد اسلامی ترقیاتی بینک سے بھی 4.5ارب ڈالرز کا تیل قرض پر لیے جانے کی نوید سنادی گئی ہے مجموعی طورپر یہ قرضے 48.5ارب ڈالرز کے نظر آرہے ہیں لیکن ان قرضوں کی واپسی کیسے ہوگی؟ کیا ان قرضوں کا بوجھ نئی آنے والی حکومت کو برداشت کرنا پڑے گا؟ یہ ابھی واضح نہیں، ماہرین نے بڑے پیمانے پر قرضے لینے کی حکومتی پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر موجودہ اور گزشتہ حکومتوں کے دور میں لئے جانے والے قرضوں کی واپسی کے لئے موثر اقدامات نہ کئے گئے تو پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے ۔

error: Content is protected !!